مستونگ میں بم حملے میں کم از کم ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سینیچر کے روز بم حملے کے ایک واقعے میں کم از کم ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ کھڈکوچہ میں گرو کے علاقے میں پیش آیا۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو کہ اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں یہاں سے گزررہی تھیں۔
اہلکار کے مطابق دھماکے کے باعث ایک سکیورٹی اہلکار زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ آٹھ اہلکار زخمی ہوگئے۔
زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
بلوچستان کے وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ایک اہلکار کے مارے جانے پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے بزدلانہ حملے سکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلوں کو پست نہیں کرسکتے۔’
دو روز کے دوران کھڈکوچہ میں پیش آنے والا تیسرا واقعہ کھڈکوچہ میں دو روز کے دوران تشدد کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔
گزشتہ روز اس علاقے میں دو مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
کھڈکوچہ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان میں سے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جنھیں نامعلوم افراد نے گولی مارکر ہلاک کیا تھا جبکہ باقی چار افراد کی ہلاکت اور تین کے زخمی واقعہ ایک باغ میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے کی وجہ سے پیش آیا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدور تھے جو کہ سیب کے ایک باغ میں کام کررہے تھےـ
نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اسلم بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما عبدالرؤف مینگل نے دعویٰ کیا کہ چار مزدور کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کا واقعہ ڈرون حملے کی وجہ سے پیش آیا ہےـ
دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے مستونگ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔



















