بلوچستان میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس سٹیشن کو تباہ اور تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دو اضلاع پشین اور کچھی میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک پولیس تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کے علاوہ ایک تحصیل آفس کو نذر آتش کر دیا ہے۔
پولیس تھانے کو تباہ کرنے کا واقعہ ضلع پشین کے علاقے سرانان میں پیش آیا۔
پشین میں پولیس کے ایک اہلکار انور خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد جمعرات کو سرانان بازار آئے اور انھوں نے تھانے کے عملے پر قابو پالیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد میں تھانے کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا گیا لیکن اس میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
سرانان میں پیش آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ
سرانان انتظامی لحاظ سے کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کا حصہ ہے اور یہ کوئٹہ شہر سے شمال میں اندازاً 57 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سرانان اور ضلع پشین کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے نے قبول کی ہے۔
قوم پرست جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے سرانان میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت زیارت، سنجاوی اور ہرنانی میں رونما ہونے والے بدامنی کے بعض واقعات کی مذمت کی ہے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حساس علاقوں میں سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں تاکہ شہری بلاخوف اپنے معمولات زندگی کو جاری رکھ سکیں۔
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کہاں نذرآتش کیا گیا؟
ضلع کچھی میں تحصیل آفس کو کھٹن کے علاقے میں نذرآتش کیا گیا۔
کچھی پولیس کے ایک اہلکار زاہد حسین کے مطابق اس علاقے میں مسلح افراد آئے اور انھوں نے تحصیل آفس کو نذرآتش کیا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ آگ کی وجہ سے تحصیل آفس اور اس میں موجود سرکاری ریکارڈ کو نقصان پہنچا۔
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ضلع کچھی میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
