اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو منجمد اثاثے تاحال جاری نہیں کیے گئے: ایرانی عہدیدار
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty
ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک ایران کو کوئی رقم یا اثاثے جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ہمتی نے ایران کو سونا اور رقوم واپس ملنے سے متعلق خبروں کو افواہ قرار دیا اور کہا: ’اب تک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو کوئی بھی منجمد اثاثہ واپس نہیں کیا گیا۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کے بارے میں گردش کرنے والی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور اس حوالے سے اب تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
کینیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ: ایکواڈور کے انٹیلی جنس سربراہ، اہلیہ اور پانچ امریکی شہری ہلاک
،تصویر کا ذریعہKenya Red Cross/Handout via Reuters
ایکواڈور کی انٹیلی جنس کے سربراہ اور ان کی اہلیہ بدھ کے روز کینیا میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اس حادثے میں پانچ امریکی شہری بھی ہلاک ہوئے ہی۔
میشیلے سینسی کونٹوگی اور ان کی اہلیہ اسٹیفنی ہولیہان ان سات افراد میں شامل تھے، جو سامبورو کاؤنٹی میں تقریباً مقامی وقت کے مطابق صبح 9:13 بجے پیش آنے والے اس حادثے میں ہلاک ہوئے۔
کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہیلی کاپٹر لوئیسابا کے ایک محفوظ وائلڈ لائف علاقے سے ایواسو نیرو کی جانب ایک تفریحی فضائی سفر پر تھا۔ ایواسو نیرو ایک دریا ہے جو کینیا کے متعدد علاقوں کے ساتھ بہتا ہے۔
کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مزید کہا کہ وزارتِ ٹرانسپورٹ اور فضائی حادثات کی تحقیقات کرنے والا محکمہ حادثے کے اسباب اور اس سے متعلق تمام حالات کی تحقیقات کرے گا۔
پاکستان میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی حکومت نے ڈیزل
کی فی لیٹر قیمت میں 32 روپے 63 پیسے کمی اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے
97 پیسے کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن سے جاری
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی نئی قیمت 363 روپے چھ پیسے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی نئی
قیمت 337 روپے 51 پیسے مقرر کی گئی ہے۔
عراقی وزیرِ اعظم نے قالیباف کے دورۂ عراق کے دوران ایران کے ’حمایتی مؤقف‘ کو سراہا
،تصویر کا ذریعہIRNA
عراق کے وزیرِ اعظم علی الزیدی نے ایران کے عراق سے متعلق ’حمایتی مؤقف‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص ایک دہائی قبل داعش (آئی ایس آئی ایل) کے خلاف جنگ کے دوران تہران کی حمایت عراق کے لیے اہم رہی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق الزیدی نے یہ بات ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات میں کہی، جو عراق کے سرکاری تین روزہ دورے پر بغداد پہنچے ہیں۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ، مشترکہ اقدامات کے امکانات اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر محمد باقر قالیباف نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے عراقی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے مشترکہ مفادات کے پیشِ نظر باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔
حکومت کا ڈیزل کی قیمت میں 30 سے 32 روپے کمی کا عندیہ، اوگرا آج اعلان کرے گا: وفاقی وزرا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ
اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت
پر آئل ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کیے گئے ہیں اور ڈیزل کی قیمت میں 30 سے 32 روپے
فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے، جبکہ اوگرا آج اس حوالے سے اعلان کرے گا۔
اسلام آباد
میں بدھ کے روز خصوصی
گفتگو میں عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے آج اجلاس میں آئل ریفائنریز کے
ساتھ مذاکرات کی ہدایت کی اور حکومت کی ترجیح ہے کہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم
کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ خطے میں جنگ کے باعث
دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کی
کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے کسانوں اور ٹرانسپورٹ کے
شعبے کو ریلیف ملے گا۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ آئندہ
دنوں میں عوام کو مزید خوش خبریاں بھی ملیں گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک
نے کہا کہ حکومت کو عوامی مسائل کا مکمل ادراک ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں عوام
کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عوام کو ٹارگٹڈ
سبسڈی کے ذریعے بھی ریلیف دیا گیا ہے اور حکومت معاشی مشکلات کے حل کے لیے کوشاں
ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق بین الاقوامی
مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیزل پیدا کرنے والے ملک روس
کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت
پر آئل ریفائنریز کے حکام کے ساتھ دو سے تین نشستیں ہوئیں، جن میں ریفائنریز نے
ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی
وزیر نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 30 سے 32 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے اور
حکومت آئل ریفائنریز کے تعاون کی شکر گزار ہے۔
’کشمیر انڈیا کا اہم حصہ ہے‘:امریکی سفیر کا سرینگر میں بیان, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
انڈیا میں امریکی سفیر اور جنوبی و
وسطی ایشیا کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی مندوب سرگئی گور نے انڈیا کے زیرِ
انتظام کشمیر کے دورے کے دوران کشمیر کو ’انڈیا کا اہم حصہ‘ قرار دیتے ہوئے مقامی
انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا ہے۔
سرگئی گور کے دو روزہ دورۂ کشمیر اور
لداخ کو ان کی خصوصی حیثیت کے باعث غیر معمولی اہمیت دی جا رہی تھی، تاہم وزیر
اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو میں انھوں نے محتاط
اور تقریباً غیر جانبدار انداز اپنایا۔
انھوں نے کہا: ’کشمیر آ کر مجھے بہت
خوشی ہوئی، یہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عمر عبداللہ کے
ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا
گیا۔
’اس گفتگو کے موضوعات پر مجھے
واشنگٹن اور نئی دلّی میں مزید بات کرنی ہے، جبکہ ہمارے مزید ملاقاتوں کے دور بھی
باقی ہیں۔‘
اس موقع پر عمر عبداللہ نے ملاقات کو
تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا: ’ظاہر ہے کچھ موروثی مسائل ہیں جن کے حل کے لیے آنے
والے وقت میں کام کرنا ہو گا، لیکن یہ مذاکرات آگے چل کر سرگئی گور اور واشنگٹن کے
علاوہ میرے اور نئی دلّی کے درمیان بھی جاری رہیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے
برسوں میں امریکہ اور جموں و کشمیر کے تعلقات مزید وسیع اور گہرے ہوں گے۔‘
امریکی شہریوں پر کشمیر کے سفر سے
متعلق سفری پابندیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سرگئی گور نے کہا کہ ان
پابندیوں کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا: ’یہ ایک بہت خوبصورت
وادی ہے۔ نئی دلّی اور مقامی انتظامیہ نے حالات بہتر بنانے اور اس خطے کو زیادہ
محفوظ بنانے کے لیے قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ میں اس حوالے سے کوئی بڑا اعلان نہیں
کروں گا، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ کشمیر سے متعلق سفری پابندیوں میں نرمی ہونی
چاہیے۔‘
سرگئی گور سرینگر میں رات قیام کے
بعد لداخ روانہ ہوں گے۔
کسی امریکی سفیر کی کشمیر کے وزیر
اعلیٰ کے ساتھ یہ تقریباً 15 برس بعد پہلی ملاقات ہے۔ اس سے قبل 2011 میں اُس وقت
کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سرینگر میں
ملاقات کی تھی۔
سرگئی گور کی صدر ٹرمپ سے قربت اور
جنوبی و وسطی ایشیا میں ان کے کردار کے باعث اس دورے کے حوالے سے مختلف قیاس
آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن جماعت
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما نعیم اختر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان
میں کہا: ’سرگئی گور نہ صرف امریکی سفیر ہیں بلکہ جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر
ٹرمپ کے خصوصی مندوب بھی ہیں، اس لیے اس دورے کی خاص اہمیت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی
جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی معاہدے کی تعریف کے بعد اس
دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سرگئی گور کی سرینگر آمد سے چند
گھنٹے قبل عمر عبداللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: ’میں کشمیر کے مسائل پر
بات نئی دلّی سے کروں گا، نہ کہ کسی بیرونی ملک سے۔ ہاں، وہ آ رہے ہیں، یہ اچھی
بات ہے، لیکن میں زیادہ سنوں گا۔ ظاہر ہے وہ بات کرنے آ رہے ہیں تو ہم بھی بات
کریں گے۔‘
واضح رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی
منسوخی کے ایک سال بعد انڈین حکومت نے امریکہ سمیت 15 ممالک کے سفیروں کو کشمیر کے
دورے کی دعوت دی تھی۔ اس دورے کے دوران حکومت نے یہ مؤقف اجاگر کرنے کی کوشش کی
تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد خطے کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
کے ٹو ائیرویز طیارہ حادثہ: متاثرہ خاندانوں کا شفاف تحقیقات اور سرچ آپریشن بحال کرنے کا مطالبہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
اورماڑہ کے قریب کے ٹو ایئر ویز کے C-130 طیارے کو
پیش آنے والے حادثے کے 40 روز گزر جانے کے باوجود ہلاک ہونے والے عملے کے اہل خانہ
کو کئی اہم سوالات کے جواب نہیں مل سکے۔ متاثرہ خاندانوں نے بدھ کو مشترکہ پریس
کانفرنس میں ایئرلائن انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات اور سرچ آپریشن
دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس کی قیادت حادثے میں
ہلاک ہونے والے کپتان محمد رضوان ادریس کے صاحبزادے یثرب علی رضوان نے کی، جبکہ
دیگر عملے کے اہل خانہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
لواحقین کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد
ایئر لائن انتظامیہ کی جانب سے رابطے میں تاخیر کی گئی اور اب تک کئی معاملات پر
انھیں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
متاثرہ خاندانوں نے خاص طور پر طیارے
کے بلیک باکس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر کی تلاش میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا
اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے فلائٹ ڈیٹا
ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کی برآمدگی انتہائی اہم ہے۔
لواحقین نے دعویٰ کیا کہ حادثے سے
قبل طیارے میں کئی ماہ سے نیویگیشن اور دیگر تکنیکی مسائل موجود تھے۔ ان کے مطابق
طیارے کی دیکھ بھال، پرواز سے قبل تکنیکی منظوری اور مبینہ خرابیوں سے متعلق
ریکارڈ کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔
متاثرہ خاندانوں نے یہ سوال بھی
اٹھایا کہ اگر طیارے کو شارجہ میں ’ایئرکرافٹ آن گراؤنڈ‘ کی بنیاد پر روکا گیا تھا
تو اسے دوبارہ پرواز کی اجازت کیسے دی گئی؟ ان کا مطالبہ تھا کہ طیارے کی مینٹیننس
ہسٹری، تکنیکی لاگ بکس، پرواز سے قبل معائنے اور کلیئرنس دینے والے ذمہ داران کی
تفصیلات سامنے لائی جائیں۔
لواحقین نے ایئر لائن انتظامیہ کی
جانب سے انشورنس اور مالی معاملات سے متعلق معلومات فراہم نہ کیے جانے پر بھی
تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کو مکمل معلومات اور ان
کے قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔
واضح رہے کہ سات جولائی کو کے ٹو
ایئر ویز کا C-130 طیارہ شارجہ سے کراچی آتے ہوئے اورماڑہ کے قریب
سمندر میں حادثے کا شکار ہوا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کے پانچ افراد لا پتہ ہو
گئے تھے۔ ریسکیو اداروں نے بعد ازاں ان کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
حادثے کے بعد پاکستان نیوی، میری
ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور پاکستان ایئر فورس سمیت مختلف اداروں نے ریسکیو اور سرچ
آپریشن کیا، تاہم سمندر کی گہرائی میں موجود ملبے اور اہم شواہد کی مکمل بازیابی
اب بھی نہیں ہو سکی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ ان
کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو قبل از وقت ذمہ دار ٹھہرانا نہیں بلکہ حادثے کی غیر
جانب دار اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ انھوں نے حکومت، سول ایوی ایشن حکام
اور تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ تمام تکنیکی ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، سرچ
آپریشن مکمل کیا جائے اور حادثے کی اصل وجوہات عوام اور متاثرہ خاندانوں کے سامنے
لائی جائیں۔
لواحقین نے واضح کیا کہ جب تک اہم
شواہد، خصوصاً فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر سے متعلق تحقیقات مکمل
نہیں ہوتیں، وہ کسی بھی حتمی تحقیقاتی رپورٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں
گے۔
اسرائیل نے غزہ میں پانچ سالہ ہند رجب کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی تصدیق کر دی, یولاند نیل، نامہ نگار برائے مشرقِ وسطیٰ، یروشلم
،تصویر کا ذریعہFamily/Reuters
اسرائیلی فوج نے پہلی بار تصدیق کی
ہے کہ غزہ جنگ کے دوران غزہ سٹی میں پانچ سالہ ہند رجب اور ان کے خاندان کے چھ
افراد کو لے جانے والی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی۔
جنوری 2024 میں ہونے والے حملے میں ابتدائی
طور پر تو ہند رجب زندہ بچ گئی تھیں، تاہم ان کے خاندان کے کئی افراد ہلاک ہو گئے
تھے۔ البتہ چند روز بعد ان کی لاش ان کے رشتہ داروں کی لاشوں کے ساتھ برآمد ہوئی۔
حملے کے بعد ہند رجب فلسطینی ہلالِ
احمر سوسائٹی کی ایک ٹیلی فون کال کا جواب دینے میں کامیاب رہی تھیں۔ یہ گفتگو کئی
گھنٹے جاری رہی۔ بعد ازاں انھیں بچانے کے لیے بھیجی جانے والی ایمبولینس، جس کی
نقل و حرکت اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے میں طے کی گئی تھی، گولہ باری کا نشانہ بنی
جس میں دو طبی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک
بیان میں کہا ہے کہ جائزے کے بعد اس واقعے کی فوجداری تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’فلسطینی ہلالِ
احمر کی ایمبولینس کی نقل و حرکت کے لیے رابطہ کاری میں مبینہ ناکامیوں کے باعث
فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی فوجی پولیس کے شعبۂ فوجداری تحقیقات کے ذریعے
مجرمانہ تحقیقات کی جائیں گی۔‘
آئی ڈی ایف نے ابتدا میں کہا تھا کہ
ہند رجب کی ہلاکت کے وقت اس علاقے میں اس کے کوئی اہلکار موجود نہیں تھے، تاہم اس
دعوے پر جلد ہی سوالات اٹھنے لگے۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس
نے غزہ سٹی کے مختلف علاقوں، جن میں تل الہوا بھی شامل تھا جہاں ہند رجب موجود
تھیں، میں ’دہشت گردی کے اہداف‘ کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔
ہند رجب کی ہلاکت کی عالمی سطح پر
مذمت کی گئی تھی، خاص طور پر اس آڈیو ریکارڈنگ کے بعد جس میں وہ طبی اہلکاروں سے
گفتگو کر رہی تھیں اور جو دنیا بھر میں نشر کی گئی۔
ہند اور ان کا خاندان غزہ سٹی میں
اپنے علاقے پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے
جب ان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔
ہند کی مدد کی اپیلیں اُس وقت ختم ہو
گئیں جب مزید فائرنگ کی آوازوں کے درمیان فون لائن منقطع ہو گئی۔
ہند رجب کی کہانی پر مبنی ایک فلم ’دی وائس
آف ہند رجب‘ بھی بنائی گئی، جسے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ نے اپنی ایک تحقیقاتی
رپورٹ میں ہند کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام عائد
کیا تھا، جس کی اسرائیل تردید کرتا ہے۔
ہند
اور ان کے خاندان کے واقعے کے علاوہ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ گذشتہ
سال جنوبی غزہ کے شہر رفح کے قریب 15 فلسطینیوں، جن میں طبی کارکن اور اقوامِ
متحدہ کا ایک اہلکار بھی شامل تھا، کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرے گی۔
تحفظات دور نہ کیے تو تعاون نہیں کریں گے، شہباز شریف کے گرد لوگ ان کی کوششیں ناکام بنا رہے ہیں: بلاول بھٹو
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان پیپلز
پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تحفظات دور ہونے تک ان کی جماعت
قانون سازی پر حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔
اسلام آباد
میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’تاہم، اگر کوئی ایسا قانون آ جائے جو
قومی مفاد میں ہو‘ تو پیپلز پارٹی اس مخصوص معاملے پر تعاون کر بھی سکتی ہے۔
بلاول بھٹو کے
مطابق پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اس بات کے لیے تیار نہیں
ہیں کہ حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے اور نہ ہی مسلم لیگ ن نے پارٹی کے اعتراضات
دور کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
پریس کانفرنس
میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف کی نیت ٹھیک ہے،
وہ کام بھی کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے تحفظات بھی دور کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے
ارد گرد کچھ ایسے لوگ ہیں جو وزیر اعظم کی کوششوں کو بار بار ناکام بنا دیتے ہیں۔‘
بلاول بھٹو نے ’اسٹیبلشمنٹ
اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے‘ سے متعلق سوال پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’پیج
ایک ہو بھی سکتا ہے، لیکن دال میں کچھ تو کالا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ہے کیا،
لیکن کچھ تو ہے، اور وہ آج یا کل سامنے آ جائے گا۔‘
پریس کانفرنس
میں بلاول بھٹو سے سوال میں ان کے بیان کا حوالہ دیا گیا جس میں انھوں نے کہا
تھا کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی سے پوچھا گیا کہ کیا
وہ اِن ہاؤس تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟
بلاول بھٹو کا
جواب تھا: ’اس وقت میری توجہ اِن ہاؤس تبدیلی پر نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پارلیمان
فعال بنے۔‘
بلاول بھٹو کا
کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے جو قدم عوام کے اتفاق رائے سے اٹھایا جائے گا،
پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہو گی، تاہم ’زور زبردستی سے کوئی بات ہم نہ پہلے
مانے ہیں، نہ آگے مانیں گے۔‘
عمران خان کو
علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ
کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ زیادہ بہتر ہوتا اگر سپریم کورٹ کو یہ حکم
دینے کی ضرورت نہ پڑتی اور حکومت عمران خان کے علاج کا خود بندوبست کرتی۔
انھوں نے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو بھی متنازعہ قرار دیا اور
کہا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن وہاں کے مسائل کا حل نہیں نکال سکے گی۔
پریس
کانفرنس سے قبل بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ قومی
اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں
اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے موقع پر پاکستان تحریک
انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سیکریٹری
جنرل اسد قیصر اور دیگر رہنما موجود تھے۔
ایران، امریکہ مفاہمت کا موقع ضائع ہوا تو غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا: سابق ایرانی صدر محمد خاتمی
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے
ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی حمایت کرتے ہوئے اسے
ایک ایسا موقع قرار دیا ہے جس کے ضائع ہونے کی صورت میں ’غیر معمولی مشکلات‘ پیدا
ہو سکتی ہیں۔
خاتمی کے سرکاری ٹیلی گرام چینل ’خاتمی
میڈیا‘ نے 18 اگست کو ان کے خطاب کے بعض حصے نشر کیے ہیں۔
محمد خاتمی نے اسلام آباد میں طے
پانے والی مفاہمتی یادداشت کو ’بے مثال‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’دوسری جنگِ عظیم کے
بعد امریکی صدر کے دستخط سے منظور ہونے والی کوئی دستاویز ایسی نہیں جس میں دوسرے
فریق کو اس قدر مراعات دی گئی ہوں۔‘
ان کے بقول: ’مفاہمتی یادداشت سے
پیدا ہونے والا یہ موقع اگر ہم نے کھو دیا تو ہمیں غیر معمولی مشکلات کا سامنا
کرنا پڑے گا۔ اس معاہدے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘
محمد خاتمی نے کہا کہ اس مفاہمتی
یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط ہیں اور اگرچہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں
کرتے، تاہم ان کے مطابق اس دستاویز کی حیثیت اور اعتبار بہت سے دیگر معاہدوں سے
زیادہ ہے۔
انھوں نے جنگ کے حامی حلقوں کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’میں بھی اپنے رہبر کے قتل پر دلی صدمہ محسوس کرتا ہوں، لیکن ملک کا نظم و نسق جذبات کی بنیاد پر نہیں چلایا جا سکتا۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ ملک، نظام اور اسلام کے مفاد میں کیا ہے۔‘
آبنائے ہرمز میں روکے گئے اماراتی آئل ٹینکر کا رخ بندرعباس کی جانب موڑ دیا گیا: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ
آبنائے ہرمز میں روکے گئے متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر کا رخ بندرعباس کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔
یہ تیل بردار بحری جہاز اس سے قبل
آبنائے ہرمز کے شمالی حصے میں تحویل میں لیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس آئل ٹینکر
کی ابتدائی منزل امارات کی جبل علی بندرگاہ تھی، تاہم اب اس کا رخ بندرعباس کی طرف
موڑ دیا گیا ہے۔
یہ
پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس نے
ایران کے ساتھ اپنی تمام تجارتی سرگرمیاں اور مالی لین دین تا حکمِ ثانی معطل کر
دیا ہے۔
برطرف کیے گئے یوکرینی وزیرِ دفاع کا جنگ کے دوران صدارتی انتخابات کرانے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
یوکرین کے مقبول سابق وزیرِ دفاع
میخائلو فیڈوروف نے جنگ کے دوران انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جسے روس کے حملے
کے ساڑھے چار برس بعد صدر ولادیمیر زیلنسکی کی صدارت کو درپیش سب سے بڑا سیاسی
چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
35 سالہ فیڈوروف نے منگل کو یوٹیوب
پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ ’روس جمہوریت کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔‘ ان کا کہنا
تھا کہ یوکرین ’اسی لیے لڑ رہا ہے کہ وہ ایک آزاد یورپی ریاست کے طور پر برقرار رہ
سکے۔‘
2022
میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں مارشل لا نافذ ہے، جس کے باعث انتخابات
معطل ہیں۔
فیڈوروف نے اپنی ویڈیو میں زیلنسکی
کا نام نہیں لیا، تاہم گذشتہ ماہ انھیں اپنی تقرری کے صرف چھ ماہ بعد غیر متوقع
طور پر وزیرِ دفاع کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کی برطرفی کے بعد ملک بھر میں
احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
زیلنسکی
نے فیڈوروف کی ویڈیو پر ابھی تک کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
خطے کا سکیورٹی نظام تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہISNA
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر
قالیباف نے کہا ہے کہ ’40 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے کا سکیورٹی نظام تبدیل ہوتے دیکھ
رہے ہیں۔ نئے نظام میں بیرونی طاقتوں اور علاقائی حدود سے باہر کے کرداروں کی خطے
کے معاملات میں مداخلت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔‘
محمد باقر قالیباف آج بدھ کے روز
عراقی اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے لیے بغداد پہنچے ہیں اور ایرانی ذرائع ابلاغ کے
مطابق انھوں نے عراق کے صدر نزار آمیدی سے ملاقات کی ہے۔
ابھی تک اس ملاقات کی مزید تفصیلات
سامنے نہیں آئی ہیں۔
عراقی صدر سے ملاقات سے قبل بغداد
ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ ان کا آج کا دورۂ
عراق ’خطے میں نئے نظام کو مضبوط بنانے اور بیرونی مداخلت کے بغیر تمام علاقائی
ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کو تیز کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی
ہے۔‘
اس دورے کا مقصد ’دو طرفہ تعلقات کے
فروغ، سرحدی سلامتی، شدت پسندی کے خلاف جنگ اور اقتصادی تعاون میں توسیع پر تبادلہ
خیال‘ بتایا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمان کا ایک وفد بھی اس
دورے میں ان کے ہمراہ ہے۔
باقر قالیباف کا یہ دورۂ عراق ایسے
وقت میں ہو رہا ہے جب حالیہ ہفتوں کے دوران عراقی حکومت اور ایران نواز مسلح
گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
جب
سے عراق کے نئے وزیر اعظم علی زیدی نے عہدہ سنبھالا ہے، وہ ایران کے قریب سمجھے
جانے والے مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی شام میں اسرائیلی حملے کی مذمت، ’ان حملوں سے خطے کے امن کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے‘: دفتر خارجہ
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
پاکستان نے شام کے شہر ادلب میں ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا یہ حملہ بلا اشتعال تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان سے خطے کے امن اور استحکام کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ نے بھی اس حملے کے حوالے سے اسرائیل پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے شام اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع ایک شامی فوجی فضائی اڈے پر حملے کی اطلاعات کو غیر ضروری کشیدگی قرار دیا ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کو ابو الظہور ہوائی اڈے کے رن وے اور گودام پر آٹھ فضائی حملے کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان نے شام کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شام عرب جمہوریہ کے امن و خوشحالی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کو روکنے اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
دوسری جانب اسرائیل نے حملوں پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ شام ’سکیورٹی سے متعلق موجودہ صورتحال کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔‘
اسرائیل نے دمشق پر الزام عائد کیا کہ وہ ترکی کی فوج کو اس فضائی اڈے پر تعینات ہونے کی اجازت دے رہا تھا۔
شام اور ترکی نے ان حملوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
امریکی فوج کو سہولت دینا ’ایران کے خلاف شراکت داری‘ تصور کی جائے گی، ایرانی فوج کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف علی عبداللہی نے خلیجی ممالک کو امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ایکس پر ایک پیغام میں علی عبداللہی نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی طیاروں، خصوصاً ایندھن بھرنے والے طیاروں، کی میزبان ممالک کی معلومات کے بغیر علاقائی اڈوں پر تعیناتی کا امکان کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران امریکی فوج کو دی جانے والی کسی بھی ’مدد یا سہولت‘ کو اپنی فوجی قوتوں کے خلاف ’شراکت داری‘ تصور کرے گا۔
یاد رہے کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ممالک میں موجود ان امریکی اڈوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا جہاں امریکی فوج تعینات ہے۔
مالی سال 2025-26: بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ، آٹو موبائل کی صنعت سرفہرست, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی بڑی صنعتوں کی مجموعی شرح نمو 4.9 فیصد رہی اور اس میں سب سے اہم کردار آٹو موبائل شعبے نے ادا کیا جہاں ترقی کی شرح 50 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) یعنی بڑی صنعتوں کی شرح نمو میں کمی دیکھی گئی تھی تاہم مالی سال 2025-26 میں معاشی استحکام کے بعد صنعتی پیداوار میں اضافہ سامنے آیا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارے کے مطابق صنعتی پیداوار میں اضافے میں آٹو موبائل شعبے کا کردار نمایاں رہا جبکہ گارمنٹس اور پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق صنعتوں کی کارکردگی بھی بہتر رہی۔
وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق آٹو موبائل شعبے میں شرح نمو 55.7 فیصد، ٹرانسپورٹ آلات کی پیداوار میں 42.3 فیصد، فرنیچر کے شعبے میں 22.69 فیصد، کھیلوں کے سامان سمیت دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں میں 16.62 فیصد اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں 9.70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، کیمیکلز اور ادویات سازی کی صنعتوں کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ مالی سال 2025-26 کے دوران ایل ایس ایم کی شرح نمو میں اضافہ ہوا تاہم مالی سال کے اختتام پر ترقی کی رفتار کمزور پڑتی ہوئی دکھائی دی۔
جون 2026 میں صنعتی پیداوار میں ماہانہ اور سالانہ دونوں بنیادوں پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
جون 2026 میں ایل ایس ایم کی شرح نمو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 3.4 فیصد رہی۔
صنعتکاروں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت صنعتوں کے لیے توانائی کی بلند قیمتوں اور زیادہ ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کر رہی تھی تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور امریکہ ایران تنازع نے غیر یقینی کی فضا کو بڑھا دیا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اس جنگ کے باعث پاکستان کی مجموعی شرح نمو میں 1.5 فیصد کمی آئی ہے۔
امریکہ ایران سے ایسی رعایتیں چاہتا ہے جو معاہدے کا حصہ نہیں تھیں: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہHandout via Getty Images
ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران پر مزید دباؤ ڈال کر اسے ایسی رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جو کبھی کسی معاہدے کا حصہ نہیں رہیں۔‘
سوشل میڈیا نیٹ ورک ایکس پر اپنے بیان میں امریکی حکام سکاٹ بیسنٹ اور پیٹ ہیگستھ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ’یہ دونوں اس معاملے کے لیے موزوں نہیں ہیں، امریکی انتظامیہ کو پہلے اپنے پیدا کردہ مسائل حل کرنے چاہییں۔‘
ایک علیحدہ بیان میں انھوں نے عراق کے دورے کے حوالے سے لکھا کہ ’ایرانی اور عراقی عوام کے درمیان تعلقات تاریخی ہیں اور انھیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس دورے کے دوران ہم دونوں ممالک کے انفرادی اور مشترکہ امن کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں عوام کی خوشحالی کے لیے عملی اور بڑے اقدامات کریں گے۔‘
اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش، نالہ لئی کے گرد الرٹ کے لیے سائرن بجا دیے گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے ملحق راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
ایم ڈی واسا راولپنڈی نے ہائی الرٹ کے تحت رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
راولپنڈی کے نشیبی علاقوں لیاقت باغ، کمیٹی چوک انڈر پاس، مری روڈ، ڈھوک کھبہ، سرکلر روڈ اور صادق آباد میں پانی کی نکاسی کے لیے ہیوی مشینری تعینات ہے۔
ایم ڈی واسا کے مطابق ’نالہ لئی اور شہر بھر کے نالوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہےجس کے تحت نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 21 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر 17 فٹ ہے۔‘
نالہ لئی کے ارد گرد بسنے والے شہریوں کو الرٹ رہنے کے لیے سائرن بجائے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 21 اگست تک مون سون کے چھٹے سلسلے کی پیش گوئی کر رکھی ہے جس کے تحت پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہScreenGrab
،تصویر کا کیپشننالہ لئی کے ارد گرد بسنے والے شہریوں کو الرٹ رہنے کے لیے سائرن بجائے گئے
یاد رہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب اور خیبرپختونخوا نے مون سون بارشوں کے موجودہ الرٹ میں شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بوسیدہ و کچے مکانات میں ہرگز رہائش اختیار نہ کریں۔
اعلامیے کے مطابق 17 سے 20 اگست کے دوران راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ ، برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی جانب سے بارشوں کے پیش نظر الرٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران پر میزائل حملے کا الزام بے بنیاد ہے: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے ان کے ملک پر میزائل داغے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ متحدہ عرب امارات کا یہ رویہ اچھی ہمسائیگی کے اصول کے خلاف ہے۔ اس سے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد بڑھانے اور خطے میں عدم تحفظ کو روکنے کی جاری کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔‘
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے رات گئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان میں سے کوئی بھی میزائل اماراتی سرزمین پر نہیں گرا۔
ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اس نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔یاد رہے کہ
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد، متحدہ عرب امارات خطے میں ایرانی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا ملک رہا۔
تاہم مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران نے آپریشن کے دوران متحدہ عرب امارات پر حملہ نہیں کیا۔
متحدہ عرب امارات کا ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی لین دین اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایکس پر بیان میں اعلان کیا کہ یہ فیصلہ علاقائی کشیدگی، امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے والے تناؤ میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ چند گھنٹے قبل متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے ملک کی جانب دو بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جن میں سے ایک متحدہ عرب امارات کے سمندری حدود سے باہر گرا اور دوسرا ملک کے پانیوں کے اندر گرا۔