لائیو, ’کم جونگ اُن سے اچھے تعلقات‘: ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان

امریکی صدر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ’بہت اچھے تعلقات‘ کی وجہ سے وہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق جب انھوں نے جنوبی کوریا کے صدر سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش میں شامل ہونے کا کہا تو ان کا جواب تھا: ’نہیں، شکریہ!‘

خلاصہ

  • ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
  • اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے: حماس
  • ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان
  • ابراہم لنکن کے عملے کی نفسیاتی حالت دیگر امریکی بحری جہازوں کے عملے سے بہتر ہے: سینٹکام
  • ہماری کارروائیاں اب تک دفاعی رہی ہیں لیکن ممکن ہے جارحانہ بھی ہو جائیں: پاسداران انقلاب

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم

    پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ تینوں ممالک کی جانب سے مکہ معاہدے پر دستخط سے انھیں ’بہت خوشی‘ ہوئی۔

    ٹرمپ نے کہا: ’یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کس طرح یکجا ہو رہا ہے، اور کس طرح یہ ممالک زیادہ با معنی انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔‘

    امریکی صدر نے تینوں ممالک کے سربراہان کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک بڑا، جرأت مندانہ اور اہم پہلا قدم ہے، واہ!‘

  2. اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا جائے: حماس

    حماس

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن وفد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے۔

    یہ امن منصوبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش کیا ہے۔

    حماس نے یہ بیان اس کے بعد جاری کیا جب اس کے رہنما خلیل الحیہ نے مصر میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔

    جیرڈ کشنر آئندہ چند روز میں مزید مذاکرات کے لیے اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔

    فلسطینی گروپ نے کہا کہ اس نے اس امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے۔

    امریکی امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں اور ایک نئی غیر فوجی انتظامیہ کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کی جائے۔

    تاہم اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا خواہاں ہے۔

    اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حال ہی میں غزہ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، اسرائیل کسی صورت غزہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

  3. ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTasos Katopodis/Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ’بہت اچھے تعلقات‘ کی وجہ سے وہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنا چاہتے ہیں۔

    اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے ان سالانہ فوجی مشقوں کو مہنگا قرار دیا اور کہا کہ وہ ان سے مطمئن نہیں ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ انھوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت دی ہے کہ ان مشقوں کو محدود کیا جائے۔

    امریکی صدر نے اپنے فیصلے کے جواز میں کہا کہ ان کے دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا نے ’دھمکی آمیز‘ رویہ اختیار نہیں کیا اور ’احترام‘ والا برتاؤ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’اپنے اور شمالی کوریا کے کم جونگ اُن کے درمیان بہت اچھے تعلقات کی بنیاد پر، میں اس بات سے خوش نہیں ہوں کہ امریکہ نے بہت پہلے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔‘

    ٹرمپ نے مزید لکھا کہ انھوں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا تھا کہ ’کیا وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی ہماری کوشش میں شامل ہونا چاہیں گے۔‘

    ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا کا جواب تھا: ’نہیں، شکریہ!‘

    جنوبی کوریا نے ابھی تک ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  4. ابراہم لنکن کے عملے کی نفسیاتی حالت دیگر امریکی بحری جہازوں کے عملے سے بہتر ہے: سینٹکام

    ابراہم لنکن

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے چیف آف سٹاف بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں کہا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن پر موجود افراد کی ذہنی صحت اُن افراد کے مقابلے میں بہتر ہے جو دیگر بحری جہازوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    سینٹکام کے کمانڈر کا یہ پیغام ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں کی شدید تھکن سے متعلق رپورٹوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔

    ان رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات بہت سے فوجی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔

    بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکہ کے 11 فعال بحری جہازوں میں ابراہم لنکن کے اہلکاروں میں ذہنی مسائل کی شرح سب سے کم ہے۔

    حال ہی میں ابراہم لنکن کے عملے میں سے کچھ کے اہلِ خانہ نے موجودہ حالات کے نتیجے میں عملے کی ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، اور کچھ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعدد اہلکاروں نے جہاز کے ڈیک سے چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔

    امریکی بحریہ نے رسد کی فراہمی میں بعض مشکلات کی تصدیق کرتے ہوئے ابراہم لنکن کے عملے میں ذہنی صحت کے بحران کی تردید کی ہے۔ اس جہاز پر تقریباً پانچ ہزار افراد موجود ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں سفر کرنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن گذشتہ نومبر سے، یعنی تقریباً 10 ماہ یا 250 دن سے زیادہ عرصے سے سمندر میں موجود ہے۔

  5. ہماری کارروائیاں اب تک دفاعی رہی ہیں لیکن ممکن ہے جارحانہ بھی ہو جائیں: پاسداران انقلاب

    پاسداران انقلاب

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا ہے: ’جنگ کا آغاز دشمن نے کیا تھا اور ایران کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، تاہم ممکن ہے کہ مستقبل میں ان کی نوعیت جارحانہ بھی ہو جائے۔‘

    یداللہ جوانی نے کہا کہ ’حکم دیے جانے پر مسلح افواج اپنی حکمت عملی تبدیل کریں گی اور ملک کے دفاع، سلامتی کے تحفظ اور دشمن کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے ضروری وقت پر ہر قدم اٹھایا جائے گا۔‘

    حال ہی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اِن چیف کے مشیر محمد رضا نقدی نے بھی ایرانی فوجی حکمت عملی کو دفاعی نظریے سے جارحانہ نظریے میں تبدیل کرنے کے فیصلے کی خبر دی تھی۔

    انھوں نے ایران کے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کمانڈروں کی نئی تقرریوں کو ’حکمت عملی تبدیل کرنے کی تیاری‘ قرار دیا تھا۔

  6. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ مالی سال 2025-26 کے دوران 61 ارب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جون سنہ 2025 کے اختتام پر 1614 ارب روپے تھا۔ تازہ ترین گردشی قرضے کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا رقم 77 ارب روپے کم ہو کر 784 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال 861 ارب روپے تھی۔
    • ہنگری میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاحوں سے بھری ایک بس موٹروے سے پھسل کر کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
    • اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بدر یونٹ کے ایک سینئر کمانڈر ابو حسن علاء کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حزب اللہ کے یہ کمانڈر تنظیم کی جانب سے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
    • عرب لیگ نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان سے جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
    • ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہے۔
    • ایرانی مسلح افواج کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تین ایرانی پائلٹ قطر میں قید ہیں اور انھوں نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے ان کی صورتحال واضح کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔ جبکہ قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے دعوے کی تردید کی ہے۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔