بھوت کی افواہ سے خالی ہونے والا سکول: کیا طالبات اجتماعی نفسیاتی کیفیت کا شکار ہوئیں؟

ڈوما آشرم اسکول

،تصویر کا ذریعہNiteshRaut/BBC

،تصویر کا کیپشنڈوما بورڈنگ سکول
    • مصنف, نتیش راؤت
    • عہدہ, بی بی سی نیوز مراٹھی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

بھوت نظر آنے کی افواہ کے باعث امراوتی ضلع کے دور دراز علاقے میلہ گھاٹ کے ڈوما گاؤں میں واقع ایک قبائلی آشرم یعنی رہائشی سکول تقریباً ویران ہو گیا ہے۔ خوف و ہراس کے ماحول کے باعث بورڈنگ سکول کے 606 طلبہ و طالبات اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے ہیں، جن میں 263 لڑکے اور 343 لڑکیاں شامل ہیں۔

طالبات کے مطابق لڑکیوں کے ہاسٹل میں بعض طالبات اچانک بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہنسنے، رونے، مسلسل کسی ایک سمت دیکھتے رہنے، چیخنے، ہاتھ پاؤں اکڑ جانے اور کسی سوال کا جواب نہ دینے جیسی کیفیت کا شکار ہو رہی تھیں۔ ان واقعات کے بعد دیگر طالبات میں بھی خوف پھیل گیا اور بھوت نظر آنے کی افواہیں زور پکڑ گئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لڑکیوں کے ہاسٹل کے بالکل قریب طلبہ کا ہاسٹل بھی واقع ہے، لیکن وہاں اس نوعیت کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔ توہم پرستی کے خلاف کام کرنے والے سماجی کارکن بھی اسی نکتے کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔

ڈوما آشرم سکول امراوتی شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں پاچ ڈونگری، ایکتائی، چونکھڑی اور گرد و نواح کے دیگر دیہات سے تعلق رکھنے والے طلبہ رہائشی بنیادوں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم کی وجہ سے اس سکول میں طلبہ کی تعداد دیگر سرکاری آشرم سکولوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔

اس آشرم سکول میں رہائشی طلبہ سمیت مجموعی تعداد تقریباً 800 ہے، تاہم 300 سے زائد طالبات کے لیے صرف تین کمرے مختص ہیں، جو ان کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی سمجھے جاتے ہیں۔

لڑکوں کے ہاسٹل کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ اگرچہ ہاسٹل کی نئی اور بڑی عمارت مکمل ہو چکی ہے، لیکن چار دیواری سے متعلق تنازع عدالت میں زیرِ سماعت ہونے کے باعث اسے طلبہ کے استعمال کے لیے نہیں کھولا جا سکا۔ نتیجتاً طلبہ کو اب بھی پرانی اور محدود گنجائش والی عمارت میں رہنا پڑ رہا ہے۔

ہاسٹل

،تصویر کا ذریعہNiteshRaut/BBC

،تصویر کا کیپشنہاسٹل

100 میٹر کے فاصلے پر واقع مہوا کا ایک درخت برسوں سے اس علاقے کا حصہ تھا، لیکن نئی عمارت کی تعمیر کے لیے اسے کاٹ دیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسی واقعے کے بعد بھوتوں کے اثرات سے متعلق افواہوں نے زور پکڑنا شروع کیا۔

بعض طلبہ میں یہ توہم پرستانہ خیال پھیل گیا کہ اس درخت پر بھوتوں کا ایک خاندان رہتا تھا اور درخت کاٹے جانے کے بعد وہ ہاسٹل میں منتقل ہو گیا ہے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ آشرم سکول گاؤں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے اور اس کے اطراف کا ماحول عموماً انتہائی پُرسکون رہتا ہے۔ تاہم نئی عمارت کی تعمیر کے دوران کئی درخت کاٹے گئے، جس کے بعد سکول میں بھوتوں سے متعلق افواہیں اور توہمات تیزی سے پھیلنے لگے۔

ڈوما سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ایکتائی گاؤں کی متعدد لڑکیاں اسی آشرم سکول میں زیرِ تعلیم ہیں۔ جب معلوم ہوا کہ غیر معمولی علامات ظاہر کرنے والی بیشتر طالبات کا تعلق اسی گاؤں سے ہے تو ہم وہاں پہنچے۔

گاؤں میں اس وقت ہر طرف اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ متاثرہ طالبات میں سے ایک کے والد شنکر دھیکار سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ ان کی بیٹی بھی ان طالبات میں شامل تھی جن میں غیر معمولی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

بی بی سی مراٹھی سے گفتگو کرتے ہوئے شنکر دھیکار نے کہا کہ ’فی الحال سکول کا ماحول میری بیٹی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ تاہم جیسے ہی وہ مکمل صحت یاب ہو جائے گی، ہم اسے دوبارہ سکول بھیج دیں گے۔ وہ خود بھی واپس سکول جانے کے لیے اصرار کر رہی ہے۔‘

شنکر کی بیٹی کو اس روز پیش آنے والے واقعات کی کوئی واضح یاد نہیں، تاہم سکول میں گردش کرنے والی باتیں اور افواہیں اس نے ضرور سن رکھی تھیں۔

ممکن ہے کہ مہوا کے درخت کی کٹائی کے بعد پھیلنے والی افواہوں اور خوف نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس کے ذہن پر اثر ڈالا ہو۔ ڈاکٹروں کا بھی کہنا ہے کہ غالب امکان یہی ہے کہ خوف اور ذہنی دباؤ اس صورتحال کا سبب بنے ہوں۔

توہم پرستی کے پیچھے بنیادی سہولیات کی کمی؟

توہم پرستی کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹی کی ایک خاتون عہدیدار کے مطابق، ’بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں لڑکیوں کے لیے رہائشی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔ ایک چارپائی پر دو سے تین لڑکیاں سونے پر مجبور ہیں جبکہ روشنی اور دیگر بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ یہ گھٹن بھرا ماحول موجودہ صورتحال کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔‘

تعلیم اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث میلہ گھاٹ کے علاقے میں توہم پرستی اور کسی شخص کے جسم میں روح کے داخل ہونے جیسے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ مقامی افراد کے مطابق جب بھی صحت کا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو قبائلی برادری کے لوگ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے بھومکا بابا، یعنی مقامی معالج، کے پاس جانا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔

بھومکا بابا ایسے عامل یا تانترک ہوتے ہیں جو اپنے مخصوص طریقوں سے بیماریوں کا علاج کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم ناقدین کے مطابق ان کے اثر و رسوخ سے توہم پرستی کو مزید تقویت ملتی ہے۔

توہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی کے کارکن علاقے میں کام کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہNiteshRaut/BBC

،تصویر کا کیپشنتوہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی کے کارکن علاقے میں کام کر رہے ہیں

مقامی آبادی کا بھومکا بابا پر اعتماد اس قدر گہرا ہے کہ انتظامیہ بھی اس صورتحال کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ جب گاؤں کی بعض لڑکیاں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو ایسی کیفیات ظاہر ہونے لگتی ہیں، جس کی ایک وجہ علاقے میں راسخ توہمات بھی سمجھے جاتے ہیں۔

واقعے سے متاثر بہت سے طلبہ دوبارہ سکول جانا چاہتے ہیں، تاہم ان کے خاندان انھیں واپس بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔ سکول کے پرنسپل سنجے چودھری کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کے لیے بچوں کا سکول آنا ضروری ہے۔

ان کے بقول بچوں کو کوئی جسمانی بیماری لاحق نہیں، لیکن والدین کے خوف اور خدشات کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جو ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

بھوت کا اثر نہیں، ذہنی دباؤ اور اجتماعی خوف؟

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بھوت پریت یا کسی ماورائی طاقت کے اثرات کے بجائے ذہنی دباؤ، خوف اور افواہوں کا کردار ہو سکتا ہے۔ ماہرِ نفسیات سواتی سونونے نے متاثرہ طالبات کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان میں نفسیاتی دباؤ کے جسمانی اور جذباتی اثرات پائے گئے ہیں۔

طالبات میں بلا وجہ ہنسنے یا رونے، باتیں بھول جانے، خوفزدہ ہونے اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہونے جیسی علامات دیکھی گئیں۔ ان کے مطابق توہم پرستی، خوف اور مسلسل ذہنی دباؤ بعض اوقات ایسی کیفیات کو جنم دے سکتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ طبی معائنے کے مطابق تمام طالبات جسمانی طور پر صحت مند ہیں۔

دوسری جانب طالبات اور ان کے اہلِ خانہ کے ذہنوں سے خوف دور کرنے کے لیے توہم پرستی کے خاتمے کی کمیٹی کے کارکن میلہ گھاٹ پہنچ گئے ہیں۔ کمیٹی اس سے قبل بھی علاقے کے 300 سے زائد دیہات میں آگاہی مہم چلا چکی ہے۔

کارکن طالبات اور ان کے والدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور انھیں بچوں کو دوبارہ سکول بھیجنے کی اہمیت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ بعض خوفناک فلموں اور بھوت پریت سے متعلق گفتگو نے بھی سکول کے ماحول پر اثر ڈالا ہو سکتا ہے، جس سے خوف اور خدشات میں اضافہ ہوا۔

ڈوما اسکول کی لڑکیاں

،تصویر کا ذریعہNiteshRaut/BBC

،تصویر کا کیپشنڈوما سکول کی لڑکیاں

اس واقعے کا آغاز 29 جولائی کو گرو پورنیما کے دن ہوا، جب ابتدا میں چار طالبات نے باتھ روم سے باہر آنے کے بعد غیر معمولی رویہ اختیار کرنا شروع کیا۔ بعد ازاں ایسی ہی علامات دیگر طالبات میں بھی دیکھی گئیں۔

تاہم متاثرہ طالبات میں سے بیشتر گھر واپس جانے کے بعد معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق وہ گھریلو امور اور کھیتی باڑی کے کام بھی انجام دے رہی ہیں۔

تحقیقات کے دوران ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ان لڑکیوں میں سے بیشتر نے ’کنچنا‘ نامی ہارر فلم دیکھی تھی۔ اسی طرح یہ مشاہدہ بھی کیا گیا کہ ان کے رویوں میں خاصی مماثلت تھی۔ بعض افراد کا خیال ہے کہ طالبات ایک دوسرے کے طرزِ عمل سے متاثر ہو کر اس کی نقل کر رہی تھیں۔

اس وقت آشرم سکول کا ہاسٹل تقریباً خالی پڑا ہے، لیکن گھر واپس جانے والی بہت سی طالبات دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کرنا چاہتی ہیں۔ بعض طالبات نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ کہیں یہ صورتحال سکول کی بندش کا سبب نہ بن جائے۔

طلبہ کو دوبارہ سکول واپس لانے کے لیے محکمہ قبائلی ترقی بھی سرگرم ہے۔ ایڈیشنل کمشنر سندیپ گولائت کے مطابق طالبات کو محفوظ اور پُراعتماد ماحول میں دوبارہ سکول لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ بھوت پریت سے متعلق افواہوں کے باعث سکول تقریباً خالی ہو چکا ہے، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ اس واقعے کی بنیاد واقعی کسی ماورائی تصور میں ہے یا اس کے پیچھے خوف، توہم پرستی، ذہنی دباؤ، اجتماعی نفسیاتی اثرات اور افواہوں کے پھیلاؤ جیسے عوامل کارفرما ہیں۔