نرسنگ ہومز سے کانگریس تک: امریکی کانگریس کا الیکشن جیتنے والی پہلی افغان خاتون عائشہ وہاب کون ہیں؟

عایشه وهاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

عائشہ وہاب نے کیلیفورنیا سے امریکی کانگریس کا خصوصی ضمنی انتخاب جیت لیا۔ اس طرح وہ امریکی کانگریس تک پہنچنے والی پہلی افغان نژاد امریکی خاتون بن گئی ہیں۔

یہ انتخابات کانگریس کے 14ویں انتخابی حلقے کی نشست کے لیے ہوئے تھے، جہاں عائشہ کا مقابلہ اپنی ہی ڈیموکریٹک پارٹی کی میلیسا ہرنانڈیز سے تھا۔

اس نشست پر پہلے ڈیموکریٹ ایرک سوالویل فائز تھے، جنھوں نے اپریل میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے باعث استعفا دے دیا تھا، اگرچہ انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

وہ اس وقت کیلیفورنیا کی ریاستی نشست کے انتخاب میں امیدوار بھی تھے، لیکن انہوں نے اپنی وہ انتخابی مہم بھی روک دی تھی۔

اب کانگریس میں سوالویل کی نمائندگی کی باقی مدت، جو آئندہ جنوری میں ختم ہوگی، عائشہ وہاب مکمل کریں گی۔

جمعرات کی شب گنتی مکمل ہونے والی تمام ووٹوں کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عائشہ نے ان انتخابات میں 53 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی تھیں، جو فلسطین کا حامی ہے۔

جبکہ ان کی حریف ہرنانڈیز کو اسرائیل کے حامی پلیٹ فارم کی حمایت حاصل تھی۔

پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، ہرنانڈیز کو انتخابی مہم اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے امریکا۔اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (ایپک) سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر کی مالی مدد ملی تھی۔

عایشه وهاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عائشہ وہاب نے سان فرانسسکو میں سی بی ایس ٹیلی وژن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا:

’مجھے اس حلقے کے لوگوں پر بہت فخر ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ باہر سے لاکھوں ڈالر، غلط بیانات، غلط کہانیاں اور غلط ریکارڈ یہاں لائے جا رہے تھے، لیکن پھر بھی انھوں نے حقیقت کو سمجھا اور مجھے ووٹ دیا۔‘

دوسری جانب میلیسا ہرنانڈیز نے اسی ٹیلی وژن کو بتایا کہ وہ آئندہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اس نشست پر دوبارہ عائشہ وہاب کے مقابلے میں حصہ لیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ کانگریس کے 14ویں حلقے کے لیے نیا انتخابی نقشہ تیار کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق، اس نئے نقشے کے تحت اس انتخابی حلقے میں مزید 26 ہزار ووٹرز شامل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا: "میں ڈبلن شہر دوبارہ حاصل کروں گی، وہ شہر جہاں میں پہلے میئر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہوں، اور وہاں سے ہزاروں مزید ووٹ حاصل کر سکوں گی۔"

کانگریس کے 14ویں حلقے کے لیے وسط مدتی انتخابات آئندہ نومبر کی 3 تاریخ کو ہوں گے۔

ان انتخابات کے ذریعے اگلے دو سال کے لیے اس حلقے سے کانگریس کے نمائندے کا انتخاب کیا جائے گا۔

عائشہ وہاب کون ہیں؟

عایشه وهاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعایشې وهاب په ۲۰۱۸ کال کې د هېوارډ ښاري شورا ټاکنې وګټلې. د هغې ټاکنیزه حوزه کې ګڼ افغان کډوال ژوند کوي.

عائشہ وہاب 11 جنوری 1987 کو نیویارک شہر میں افغان تارکینِ وطن کے ایک خاندان میں پیدا ہوئیں۔

ان کے والدین افغانستان پر سابق سوویت یونین کے حملے کے باعث امریکا نقل مکانی کر گئے تھے۔

عائشہ ابھی کم عمر تھیں کہ ان کے والد قتل ہو گئے اور ان کی والدہ بھی وفات پا گئیں۔ وہ اور ان کی بہن کچھ عرصہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں رہیں، بعد میں کیلیفورنیا کی ایک فیملی نے قانونی طور پر ان کی سرپرستی قبول کر کے انھیں اپنی بیٹی کے طور پر اپنا لیا۔

وہ کیلیفورنیا کے شہر فریمونٹ میں پروان چڑھیں اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے سماجی امور میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

سیاست میں آنے سے پہلے انھوں نے غیر منافع بخش اداروں اور مشاورتی تنظیموں میں کام کیا۔

عائشہ نے 2018 میں کیلیفورنیا کے شہر ہیورڈ کی سٹی کونسل کا انتخاب جیتا اور 2022 تک اس عہدے پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

2022 میں وہ پہلی افغان نژاد امریکی اور پہلی مسلمان خاتون بنیں جو کیلیفورنیا کی ریاستی سینیٹ تک پہنچیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے انتخابی حلقے میں بڑی تعداد میں افغان تارکینِ وطن رہتے ہیں، اور عائشہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ اور موجودہ انتخابات میں ان افغانوں کی حمایت ان کے لیے بہت اہم رہی ہے۔