مودی کی ثالثی کی پیشکش: کیا روس اور یوکرین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو، نئی دہلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے براہِ راست بات چیت کی پیشکش ایک ایسے وقت میں کی ہے کہ جب روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنی حالیہ گفتگو کے دوران یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ اس معاملے پر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس ’بہترین خیالات‘ ہیں جو دونوں فریقوں کو قابلِ قبول حل تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اتوار کو پہلی بار عوامی سطح پر اس بات کا اعتراف کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایس جے شنکر نے نئی دہلی میں منعقدہ 62ویں میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انڈیا کی یہ کوشش بنیادی طور پر بحیرہ اسود میں جہاز رانی کے تحفظ اور اناج و توانائی کی برآمدات برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے ابتدا ہی سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ اس تنازع کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
جے شنکر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سائبیہا نے کہا تھا کہ کیؤ کو جنگ بندی کے حوالے سے چار ممالک کی تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن میں انڈیا کی تجویز ’سب سے زیادہ جامع‘ ہے۔
ثالثی کی کوششیں اور انڈیا کا کردار
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو چار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران لاکھوں افراد متاثر ہوئے، ہزاروں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے، جبکہ یورپ کی سکیورٹی، عالمی توانائی منڈیوں اور غذائی سپلائی چینز پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑے ہیں۔
جنگ بندی کے لیے ترکی، چین، سعودی عرب، ویٹیکن، برازیل اور دیگر کئی ممالک ماسکو اور کیئو کے درمیان مذاکرات کی کوشش کر چکے ہیں۔ بعض ممالک قیدیوں کے تبادلے اور بلیک سی گرین انیشی ایٹو جیسے معاملات میں محدود کامیابی بھی حاصل کر چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی مستقل امن معاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔
ایسے میں انڈیا کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات اور سفارتکاری میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ جب دنیا کی بڑی سفارتی قوتیں اب تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں کر سکیں تو نئی دہلی کیوں سمجھتا ہے کہ اس کا کردار فرق پیدا کر سکتا ہے؟ کیا انڈیا واقعی امن کی راہ تلاش کر رہا ہے یا یہ اس کی عالمی اہمیت اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان سوالات پر ہم نے بین الاقوامی امور کے ماہرین سے بات کی۔
انڈیا کی ایک بڑی سفارتی طاقت یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس نے روس یوکرین تنازع کے دوران دونوں فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
روس، انڈیا کا ایک بڑا دفاعی شراکت دار رہا ہے اور توانائی کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔ امریکی دباؤ کے باوجود انڈیا نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی اور ماسکو کے ساتھ اپنا سٹریٹجک رابطہ برقرار رکھا۔
دوسری جانب نئی دہلی نے یوکرین کے ساتھ بھی سفارتی رابطے منقطع نہیں کیے۔ انڈیا نے انسانی بنیادوں پر یوکرین کی مدد کی، کیئو کے ساتھ سیاسی روابط برقرار رکھے اور یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی اہمیت پر زور دیا۔
اسی توازن کی وجہ سے انڈیا خود کو ان چند ممالک میں شمار کرتا ہے جو ماسکو اور کیئو دونوں کے ساتھ بیک وقت بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف دونوں فریقوں کے ساتھ روابط رکھنا کامیاب ثالثی کے لیے کافی ہے؟
ماضی کے تجربات اس بارے میں مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ترکی نے بلیک سی گرین ڈیل میں اہم کردار ادا کیا، سعودی عرب نے کئی مواقع پر قیدیوں کے تبادلوں میں سہولت فراہم کی، چین نے اپنا امن منصوبہ پیش کیا جبکہ ویٹیکن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفارتی کوششیں کیں۔ اس کے باوجود جنگ ختم نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق ثالثی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب دونوں فریق کسی حد تک سمجھوتے کے لیے آمادہ ہوں۔ جب ایک جانب مقبوضہ علاقوں کا مسئلہ ہو اور دوسری جانب سکیورٹی ضمانتوں اور سٹریٹجک مفادات کا سوال ہو تو ثالث کی طاقت سے زیادہ فریقین کی سیاسی آمادگی اہم ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے لیے سفارتی موقع یا امن کی کوشش؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر محمد سہراب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی ثالثی کی پیشکش کو کئی زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق انڈیا کی ثالثی کی ایک تاریخ ہے، لیکن آج کے دور میں اس کا کردار ’کمپرومائزڈ‘ نظر آتا ہے۔
پروفیسر سہراب نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کے دوران جو سفارت کاری کی ہے، وہ کہیں نہ کہیں انڈین قیادت کے ذہن میں ہے اور انڈیا خود کو ازسرنو پیش کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی انڈیا کے لیے ایک موقع ہے جو اسے عالمی سیاست میں ایک فعال اور نمایاں کردار کی طرف لے جا سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت اس کوشش کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے اور کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا اپنے تاریخی کردار کو دوبارہ حاصل کر سکتا ہے، تاہم اسے اپنے داخلی معاملات میں بھی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
دوسری جانب انڈیا کے سابق سفیر انیل تریگونایت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اس معاملے میں عالمی سطح پر کوئی بڑا سفارتی کردار تلاش نہیں کر رہا بلکہ وہ صرف امن چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جنگوں کے اثرات انڈیا سمیت دنیا بھر میں دیکھے جا سکتے ہیں، خواہ وہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہو یا یوریشیئن جنگ۔
انھوں نے کہا کہ ان جنگوں کے نتیجے میں امریکی پابندیاں، مصنوعات کی فراہمی میں رکاوٹ، توانائی اور سکیورٹی کے شعبے میں مشکلات اور تجارت پر اثرات سامنے آئے ہیں، جن سے تیزی سے بڑھتی ہوئی انڈین معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔
ان کے بقول انڈیا ایک ’ذمہ دار عالمی فریق‘ کے طور پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کے دوست ممالک کے درمیان لڑائی جلد از جلد ختم ہونی چاہیے اور وہ اسی ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا انڈیا واقعی فرق پیدا کر سکتا ہے؟
تاہم بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا روس اور یوکرین اس مرحلے پر کسی سیاسی مفاہمت کے لیے تیار ہیں؟
بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک جنگی میدان کی صورتحال اور دونوں فریقوں کی سٹریٹجک ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں، کسی بھی ثالث کے لیے حتمی امن معاہدہ کروانا انتہائی مشکل رہے گا۔
اسی دوران جنوبی ایشیا اور مغربی ایشیا کی سفارت کاری میں بھی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ پاکستان کو بعض حلقوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں کے لیے ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بھی اسلام آباد کو بعض سفارتی سرگرمیوں اور علاقائی مباحث میں نسبتاً زیادہ توجہ ملتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسی پس منظر میں کچھ تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا انڈیا بھی دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ صرف ایک معاشی اور عسکری طاقت نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی طاقت بھی ہے جو بین الاقوامی بحرانوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔
انڈیا طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ یوکرین جنگ کا حل میدان جنگ میں نہیں بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات میں موجود ہے۔ نئی دہلی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ دور جنگ کا نہیں بلکہ مکالمے کا دور ہے اور تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اسی لیے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کا موجودہ مؤقف پاکستان یا کسی علاقائی مقابلے سے زیادہ اس کی مستقل خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔





















