کوئٹہ تربیتی مرکز پر حملہ تصاویر میں

وقت اشاعت

کوئٹہ میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے میں 50 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک جب کہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں پیر کی رات نو اور دس بجے کے درمیان شدت پسندوں نے پولیس کے تربیتی مرکز پر ہلہ بول دیا۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنحملہ آور سردی اور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر کوئٹہ شہر سے باہر سریاب کے علاقے میں واقع پولیس تربیتی مرکز میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنیہ تربیتی مرکز شہر کے باہر واقع ہے۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنپولیس اور ایف سی کے جوانوں نے تربیتی مرکز کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا جو چار گھنٹوں تک جاری رہا۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے وزیرِ صحت نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ خون کا عطیہ دیں۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنحملے میں مارے جانے والوں کی بڑی تعداد زیرتربیت پولیس رنگروٹوں پر مشتمل ہے۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشناس حملے میں بڑی تعداد میں زیر تربیت اہلکار زخمی ہوئے جنھیں کوئٹہ کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا۔
کوئٹہ
،تصویر کا کیپشناس واقعے میں 20 سے زیادہ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
پاکستان، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنسول ہسپتال میں موجود سیکریٹری صحت نورالحق بلوچ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 85 زخمی اہلکاروں کو سول ہسپتال پہنچایا گیا ہے
پاکستان، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنسکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد کالج کو کلیئر قرار دیا ہے۔
پاکستان، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنحملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو کوئٹہ کے سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلکس منعتقل کیا گیا ہے۔
پاکستان، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنہسپتال کے حکام کے مطابق زیادہ تر زخمی افراد جان بچانے کی کوشش کرنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔