غزہ پر اتوار کی شب ہونے والے فضائی حملے ابھی تک کے سب سے زیادہ
شدید حملے تھے جس میں عکسریت پسند جماعت حماس کی سہولیات اور مکانات کے ساتھ اہم سڑکوں
اور بجلی کی لائنوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے
میں داخل ہو گئی ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کے بجلی
منقطع ہو گئی ہے اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اب تک ہونے والے حملوں کے نتیجے میں غزہ میں دو سو سے زائد فلسطینی افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 58 بچے شامل ہیں۔
دس مئی سے شروع ہونے والے ان حملوں کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 1200 سے زیادہ ہے۔
حماس کی جانب سے داغے گئے راکٹ حملوں کے باعث اب تک اسرائیل میں ایک بچے سمیت دس اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 282 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مغربی غزہ کے رہائشی ماد عابد ربو نے
اسرائیلی حملوں پر اپنے ’ڈر و خوف‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اس سے زیادہ
بڑی تعداد میں حملے نہیں دیکھے۔‘
اتوار کی شب مقامی وقت کے مطابق دو بجے
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ان کے جنگی طیارے غزہ کی پٹی میں اہداف کو نشانہ
بنانے جا رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر حملہ 'پوری طاقت' کے ساتھ جاری رہے گا اور اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔
غزہ میں بی بی سی کے نمائندے رشدی ابوالعوف نے کہا کہ شہریوں کے لیے یہ راب بہت بھاری تھی۔
ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کے خاتمے کے لیے اسرائیل، مصر، قطر اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے رات گئے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تشدد فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
لیکن بائیڈن انتظامیہ نے جنگ بندی کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا اور گذشتہ روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کسی بھی طرح کے بیان جاری کرنے کی کوششوں کو روک دیا۔