کیا تھوک کی جانچ سے کورونا کی وبا کا خاتمہ ہو سکتا ہے؟
اگر ایک بار پھر کورونا سے پہلے والی زندگی میں واپس آنے کا کوئی طریقہ ہو تو کیا ہوگا؟ یعنی ایک بار پھر سے کوئی سماجی دوری نہیں، چہرے کو ڈھانپنے کی کوئی ضرورت نہیں اور کووڈ 19 کا خوف نہیں۔ یقینا یہ تمام پابندیاں وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ کو کم سے کم کرنے کے لیے ہیں۔
ایسے میں ہمیں جس چيز کی ضرورت ہے وہ ایک تیز اور قابل اعتماد طریقہ کار ہے جس سے ہم اپنے آس پاس کے لوگوں میں انفیکشن کے بارے میں جان سکیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی جانچ میں مثبت پائے جانے والے ہر چار افراد میں سے کم سے کم ایک فرد میں جانچ والے دن وائرس کی علامات نہیں ہوتی ہیں۔
یہی بات اس خطرے کو اجاگر کرتی ہے کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔
دوسرا مسئلہ خود کورونا کی جانچ ہے۔ کورونا وائرس کا پتہ لگانے کا موجودہ معیاری طریقہ یہ ہے کہ گلے کے پچھلے حصے اور ناک کی اوپری نلی سے مادہ لیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں غیر ضروری طور پر حساس ہوں اور اپنے ٹانسل کے پاس روئی کے پھاہے لے جانا یا ناک کے نرم گوشے تک اسے لے جانا میرے لیے کلفت کا باعث ہو اور ابکائی کا باعث بنے۔
یہ سب بس چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں ہر ہفتے اس سے گزروں جیسا کہ برطانیہ کی این ایچ ایس کے فرنٹ لائن سٹاف کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔