کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟
کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔
ماہر جینیات کیٹ براڈیریک سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنے والے 44 منصوبوں میں سے ایک ہے۔
وہ امریکہ کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی اینویو میں محققین کی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو دسمبر تک اس ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین کہاں اور اور کن لوگوں کو ملے گی۔
یہ ایسا سوال ہے جو اکثر ڈاکٹر براڈیریک کے ذہن میں آتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کی اس سائنسدان کی ایک بہن برطانیہ نیشنل ہیلتھ سروس میں بطور نرس کام کرتی ہیں۔