برطانیہ کے امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کی
ایک تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ مزید افراد کووِڈ-19
سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ اندازے اب شہ سرخیوں میں اپنی جگہ بنا رہے
ہیں۔
محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کیا ہوگا اگر
سب سے زیادہ خطرے کے شکار لوگوں کے سوا سب لوگوں پر سے لاک ڈاؤن کی پابندی اٹھا لی
جائے اور صرف عمر رسیدہ یا طبی مسائل کے حامل لوگوں کو ہی حفاظت سے رکھا جائے۔
امپیریئل کالج کے پروفیسر نیل فرگوسن نے ان ہرڈ
نامی ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ لوگ سب سے زیادہ خطرے کے شکار
ہیں اور وہ بھی جنھیں نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر اس گروہ کے لیے انفیکشن کی شرح میں 80 فیصد
بھی کمی ہوجائے تو ان کے تحقیق کے مطابق ایک لاکھ افراد مزید ہلاک ہو سکتے ہیں۔
یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ برطانیہ کی حکومت اس
حوالے سے کوئی اشارے نہیں دے رہی کہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو کب اٹھایا جائے گا
اور کیسے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق بھی ابھی جاری نہیں کی گئی ہے اور یہ اگلے چند
دنوں میں متوقع ہے۔
اس کے نتائج جو بھی ہوں، لیکن یہ تحقیق اس وائرس
کے خطرے کی یاد دہانی کرواتی ہے، اور یہ باور کرواتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا
فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہے۔