دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والے طالبان کی عبوری کابینہ کے اراکین کون ہیں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
افغانستان میں طالبان کی عبوری کابینہ میں ایسے اراکین شامل ہیں جو پاکستان کے دینی مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
افغان طالبان ہوں یا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ان میں موجود بیشتر ایسے اراکین ہیں جو صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں اکوڑہ خٹک کے مقام پر قائم تاریخی مدرسے ’دارالعلوم حقانیہ‘ سے فارغ التحصیل ہیں۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کو عالمی سطح پر طالبان کی یورنیورسٹی یا ’یورنیورسٹی آف جہاد‘ کے نام بھی دیا گیا ہے۔ ان طالبان رہنماؤں میں ملا عبدالطیف منصور شامل ہیں جو زیادہ تر پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ ملا عبدالطیف منصور نے دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ انھیں وزارتِ پانی و بجلی کا قلمدان دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالباقی بھی دارالعلوم حقاینہ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ وہ وزیرِ تعلیم مقرر ہوئے ہیں جبکہ نجیب اللہ حقانی اس مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور انھیں مواصلات کا قلمدان دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم بھی دارالعلوم حقانیہ سے فارغ التحصیل ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین بھی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں زیر تعلیم رہے ہیں۔ محمد نعیم اور سہیل شاہین کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔