آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘

لائیو کوریج

  1. افغانستان کے پاس مالی ذخائر کی کیا صورتحال ہے؟

    افغانستان کے سنٹرل بینک کے گورنر اجمل احمدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں افغانستان کے اثاثاجات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ طالبان ان کے عملے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ اثاثہ جات کہاں ہیں۔

    اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس گذشتہ ہفتے تک تقریباً نوارب ڈالر کے اثاثہ جات تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کابل کے سنٹرل بینک میں یہ رقم کیش کی صورت میں موجود ہو۔

    انھوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل ضوابط کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر اثاثہ جات قابلِ فروخت ایسٹس کی شکل میں رکھے گئے جیسے کہ ٹریزری بلز اور سونا۔ تاہم ان کے بیان کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر اثاثہ جات تو ملک سے باہر رکھے گئے ہیں۔

    انھوں نے کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ افغانستان کے امریکی فیڈرل ریزروو بینک میں تقریباً سات ارب ڈالر ہیں۔ امریکی بلز اور بانڈز میں 3.1 ارب ڈالر ہیں، ورلڈ بینک کے ریزروو اڈوائزری اینڈ میجنمنٹ پارٹنرشپ میں 2.4 ارب ڈالر ہیں۔

    ان کے علاوہ بین الاقوامی اکاؤنٹس میں افغانستان کے 1.3 ارب ڈالر ہیں اور دنیا بھر کے سنٹرل بینکس کے مشترکہ ادارے بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس میں 700 ملین ڈالر ہیں۔یہ تمام اثاثہ جات تو ملک سے باہر ہیں۔

    ان کے علاوہ 1.2 ارب ڈالر کا سونا 300 ملین ڈالر کیش بینک کی ملکیت ہیں تاہم اس وقت یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں کتنا افغانستان کے اندر ہے اور کتنا افغانستان کے باہر۔

  2. افغانستان کے مالی وسائل منجمد کرنے کے باعث طالبان مالی دباؤ کا شکار

    جہاں ایک جانب طالبان افغانستان پر اپنے قبضے کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے افغانستان کے قومی فنڈز کو منجمد کر دیا ہے تاکہ طالبان کی وہاں تک رسائی نہ ہو سکے۔

    افغانستان دنیا کے غریب تین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کا دار و مدار بیرونی امداد پر ہے جو کہ اس کی مجموعی ملکی پیداوار کا 43 فیصد حصہ بنتا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بروکنگز انسٹٹیوٹ میں افغان امور کی ماہر وانڈا فلباب براؤن نے کہا کہ افغانستان بیرون ملک سے آنے والی امداد پر انحصار کرتا ہے اور وہ طالبان کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔

    امریکہ پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ امریکہ میں رکھے گئے افغان فنڈز کو منجمد کر رہے ہیں اور اس کے بعد بدھ کو عالمی مالیاتی ادارے نے بھی اعلان کیا کہ وہ افغانستان کو دی جانے والی امداد کو عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔

    عطیات دینے والے دیگر ممالک نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ بھی افغانستان کو مالی امداد روک سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی طور پر دباؤ ڈالنا مغربی ممالک کے پاس ایک اہم طریقہ ہے طالبان سے نمٹنے کے لیے۔

  3. طالبان کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے باوجود افغان عورتوں کے خدشات موجود, وکاس پانڈے، بی بی سی نیوز

    طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین کو افغانستان میں ’شریعت‘ کے مطابق ان کے حقوق دیے جائیں گے۔ لیکن وہاں رہنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان کا کیا مطلب ہے۔

    زیب حنفیہ (فرضی نام) ملک کے ایک اور صوبے سے سفر کر کے کابل پہنچی ہیں اور وہ اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہو جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ نوکری پیشہ خواتین کو بالخصوص اپنے مستقبل کی پریشانی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے زیب حنیفہ نے بتایا کہ ان کی دوست جن میں ایک ڈاکٹر اور ایک ٹیچر شامل ہیں، وہ بھی ملک سے باہر جانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    ’لیکن ابھی تک ہماری قسمت نہیں ہے۔ میں دیگر ممالک سے التجا کر رہی ہوں کہ ہمیں کسی طرح یہاں سے نکال لیں۔ ہم لوگ بس ہر وقت اسی خوف میں ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا، ہمیں طالبان جنگجؤں سے شادی کرنے پر مجبور کیا جائے گا، اور ہمیں بس بچے پیدا کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو رہے ہیں لیکن انھوں نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جائیں گی۔

    ’بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ابھی کابل پر ہی ہے تو یہی سب سے اچھا آپشن ہے اس وقت۔‘

  4. افغانستان میں طالبان کے قبضے سے انڈیا کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

  5. ’دیکھنے میں زندگی معمول کی لگتی ہے لیکن ہے نہیں‘, وکاس پانڈے، بی بی سی نیوز

    مزید دکانیں اب کھلنا شروع ہو گئی ہیں اور مزارِ شریف میں لوگ اپنی ضروریات کی اشیا خریدنے کے لیے اب گھروں سے نکلنا شروع ہو گئے ہیں، جو کہ افغانستان کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔

    اس شہر میں بڑی تعداد میں ہزارہ برادری اور ازبک نسل کے افراد رہتے ہیں جو کہ افغانستان کی بڑی اقلیتوں میں سے ہیں اور یہ دونوں وہ گروہ ہیں جن کو طالبان نے اپنے گذشتہ دور حکومت میں خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔

    اس بار حکومت میں آنے کے بعد طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی نسلی اقلیتی گروہ کے خلاف تشدد نہیں کریں گے لیکن شہر کے رہائشیوں کو اس وعدے پر پوری طرح اعتبار نہیں ہے۔

    اتوار سے ہم سے بات کرنے والے نسیم جاوید (فرضی نام) نے ہمیں بتایا کہ لوگ صرف دکھاوے کے طور پر ایسا رویہ قائم رکھ رہے کہ جیسے سب معمول کے مطابق ہے۔

    ’لیکن یہاں کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں ہے۔ مجھے ڈر و خوف اپنے ہڈیوں میں سرایت کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جب میں کبھی باہر نکلتا ہوں۔ طالبان ہر جگہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک طالبان نے لوگوں کے گھروں میں زبردستی گھسنا شروع نہیں کیا ہے اور وہ علاقے کے رہنماؤں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔

    لیکن انھوں نے مزید کہا کہ کہیں بھی جائیں تو ڈر و خوف محسوس ہوتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین اب اکیلے نکلنے سے ہچکچا رہی ہیں اور مقامی ٹی وی سٹیشنز نے موسیقی اور فلمیں نشر کرنا بند کر دی ہیں۔

  6. طالبان نے سرحد پار تجارت بند کر دی ہے: انڈیا

    افغانستان میں جاری صورتحال کی وجہ سے اس کے پڑوسی ممالک متاثر ہو رہے ہیں اور انڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے سرحد پار تجارت کو بند کر دیا ہے۔

    دونوں ملک کے درمیان کارگو یعنی تجارتی سامان لے جانے کے لیے پاکستان کے زمینی راستے استعمال ہوتے ہیں۔

    لیکن فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (ایف آئی ای او) کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اب بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث کروڑوں ڈالر کے سامان کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

    انڈیا افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور انھوں نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے جس میں ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے انھوں نے تین ارب ڈالر لگائے ہیں جن کی مدد سے ڈیم، سرکاری عمارتیں، سڑکیں اور سکول وغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں۔

  7. اب تک کتنے ممالک افغانستان سے اپنے شہریوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

    اتوار کو طالبان کی جانب کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے کابل میں رہائش پذیر مختلف ممالک کے شہری افغانستان چھوڑنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان افغان شہریوں کو بھی نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں جن کی جانوں کو خطرہ ہے۔

    اب تک مختلف ممالک کے نکالے گئے افراد کی تعداد یہ ہے:

    امریکہ:

    امریکہ نے 5200 افراد کو ملک سے باہر نکال لیا ہے جن میں سے دو ہزار افراد کو صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں لے جایا گیا ہے۔

    امریکہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطرات سے دوچار 22 ہزار افغان شہریوں کو اور افغانستان میں رہنے والے بقیہ 15 ہزار امریکیوں کو بحفاظت وہاں سے نکال لیں گے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ ایسا ہر صورت میں کریں گے چاہے اس کے لیے انخلا کی ڈیڈ لائن 31 اگست سے زیادہ دیر بھی رکنا پڑے۔

    برطانیہ:

    اتوار سے لے کر اب تک 12 افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے اور آنے والے دنوں میں برطانیہ کی کوشش ہے کہ وہ یومیہ ہزار افراد کو ملک سے باہر نکال لے۔

    جرمنی:

    اتوار سے لے کر اب تک پانچ سو افراد کو ملک سے باہر نکالا جا چکا ہے جس میں سے سو افغان شہری شامل ہیں۔

    فرانس:

    اب تک 209 افراد کو باہر نکالا جا چکا ہے جس میں 184 افغان شہری شامل ہیں۔

    سپین:

    پانچ سو افراد

    نیدرلینڈز:

    اپنے ملک کے 35 شہریوں کو افغانستان سے نکال لیا ہے اور ان کو امید ہے کہ وہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مزید ہزار افراد اور ان کے اہل خانہ کو باہر نکال لیں گے۔

    ڈنمارک:

    84 افراد

    ہنگری:

    اپنے ملک کے 26 شہری

    پولینڈ:

    50 افراد

    جمہوریہ چیک:

    افغان شہریوں سمیت 46 افراد

    جاپان:

    سفارت خانے کے عملے سے تعلق رکھنے والے 12 افراد

    آسٹریلیا:

    افغان شہریوں سمیت 26 افراد۔ تاہم کہا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا ان دیگر افغان کو ملک سے نہیں نکالے گا جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    انڈیا:

    170 افراد

    ترکی:

    اپنے ملک کے 552 شہری

    سوئٹزرلینڈ:

    حکام کی کوشش ہے کہ وہ 230 افغان عملے کو ملک سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جائیں۔

    ذریعہ: روئٹرز

  8. طالبان کی جانب سے چیک پوسٹس قائم، ائیرپورٹ جانے والے افغان افراد کو مشکلات کا سامنا

    اطلاعات کے مطابق طالبان نے ائیرپورٹ جانے والے راستوں پر چیک پوسٹس قائم کر دی ہیں جس کے باعث وہ افراد جو ائیرپورٹ جانا چاہتے ہیں ان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    اتوار کو طالبان کی جانب سے کابل شہر پر قبضے کرنے کے بعد سے تقریباً 4500 امریکی فوجیوں نے ائیرپورٹ کو کنٹرول میں لے لیا تھا تاہم وہاں تک جانے والے تمام راستوں پر طالبان کا کنٹرول ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ طالبان بالخصوص ان افغان شہریوں کو ائیرپورٹ جانے نہیں دے رہے جن کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔

    لیکن دوسری جانب حتی کہ وہ افراد جن کے پاس وہ دستاویزات بھی ہیں انھیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

  9. طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

  10. پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’جن سے جان بچا کر بھاگ رہے ہیں وہ سرحد پر کھڑے ہیں‘

  11. کابل: گارڈز کے یونیفارم سے قومی جھنڈا غائب، طالبان کی شیعہ برادری کی مجلس میں شرکت

  12. افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا: بائیڈن کا ایک بار پھر اپنے فیصلے کا دفاع

    امریکہ کے وزیراعظم جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغانستان سے امریکی افواج کو نکالنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

    امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو بدھ کے روز دیے گئے انٹرویو میں جو بائیڈن نے ایک بار پھر افغان حکومت اور افواج کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا ہے۔

    جب امریکی صدر سے کابل کے ہوائی اڈے پر پیر کے روز سامنے آنے والے مناظر کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ دفاعی انداز میں بولے ’یہ چار دن پہلے ہوا، پانچ دن پہلے!‘

    اس سوال کے جواب میں کہ انھوں نے ان مناظر کے بارے میں کیا سوچا؟ امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ ہمیں اس پر قابو پانا ہو گا۔ ہمیں مزید تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔ ہمیں اس طریقے سے آگے بڑھنا ہے کہ ہم اس ہوائی اڈے کو کنٹرول کر سکیں۔ اور ہم نے ایسا کیا۔‘

  13. طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کی تصاویر

    طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان سے آج کے دن لی گئی کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکستا ہے کہ کابل میں ایسے تمام اشتہارات جن میں خواتین ماڈل ہیں، کو رنگوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

    ہوائی اڈے پر کے باہر طالبان موجود ہیں جبکہ فوجی ان لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

  14. نیٹو: افغان سکیورٹی فورسز کا اتنی جلدی ڈھیر ہو جانا ’المیہ‘ ہے

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ یہ ایک ’المیہ‘ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اتنی جلدی ڈھیر ہو گئیں۔

    انھوں نے بی بی سی ورلڈ کو بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ واقعات سے کچھ سخت سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سٹولٹن برگ نے حالیہ بحران کا ذمہ دار فوجیوں کی بجائے افغان حکومت کی جانب سے قیادت اور لاجسٹک کی کمی کو ٹھہرایا۔

    انھوں نے کہا کہ نیٹو امریکہ پر حملے کے بعد افغانستان میں داخل ہوا اور ایک بار جب امریکہ نے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تو یورپی اتحادیوں کے لیے یہ ایک عملی آپشن نہیں تھا۔

    انھوں نے کہا ’ہمارا منصوبہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ رہنے کا نہیں تھا۔‘

  15. ’کبھی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا‘

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کے پاس اپنے ملک کا دفاع کرنے کی تربیت اور صلاحیت موجود تھی لیکن یہ ان کی ’مرضی اور قیادت پر منحصر تھا۔‘

    پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران جنرل مارک ملے نے یہ بھی کہا کہ ’ میں نے یا کسی اور نے بھی، اس سائز کی کسی فوج کو 11 دن میں گرتے نہیں دیکھا۔‘

  16. ’کابل ائیرپورٹ پر صورتحال ابھی بھی خطرناک ہے‘

    امریکی فوج کے اعلی عہدیدار جنرل مارک ملے نے کابل ائیرپورٹ کی موجودہ صورتحال کو ’ابھی تک بہت خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر پینٹاگون کی بریفنگ میں امریکی فوج کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ ابھی پوسٹ مارٹم کا وقت نہیں، ابھی وہاں فوجی خطرے میں ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم امریکی فوج ہیں اور ہم ان تمام امریکی شہریوں کو نکالنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ امریکہ پہلے ہی اپنے تقریباً پانچ ہزار افراد کو وہاں سے نکال چکا ہے۔

  17. اشرف غنی: چپل اتار کر جوتے پہننے تک کا وقت نہیں ملا

    اشرف غنی نے کہا کہ اُنھیں صدارتی محل چھوڑتے وقت اپنا ذاتی سامان یہاں تک کہ اپنی چپل اتار کر جوتے پہننے کا وقت بھی نہیں ملا۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ محل چھوڑنے کے بعد طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے تھے اور اُن کو ڈھونڈ رہے تھے۔

  18. بریکنگ, خون ریزی روکنے کے لیے ملک چھوڑا، اپنے ساتھ پیسے نہیں لے کر گیا: اشرف غنی

    افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ملک اس لیے چھوڑا تاکہ کابل میں خون ریزی نہ ہو۔

    ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے صدارتی محل چھوڑتے ہوئے اپنے ساتھ کروڑوں ڈالر لے جانے کے الزام کی تردید بھی کی ہے۔

    فیس بک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ ’اگر میں رکا رہتا تو کابل میں مزید خون ریزی ہوتی۔‘ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے حکومتی اہلکاروں کے مشورے پر افغانستان چھوڑا ہے۔

    واضح رہے کہ اشرف غنی کابل پر طالبان کے قبضے سے عین قبل ملک چھوڑ کر جانے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

    اُن کے قابلِ اعتماد ساتھی امراللہ صالح نے خود کو اُن کی جگہ پر نگران صدر قرار دے دیا ہے۔

  19. ایران اور چین کا افغانستان میں ’مشترکہ مفادات‘ کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم

    چین کے صدر شی جن پنگ اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں ممالک نے افغانستان میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ابراہیم رئیسی نے کہا کہ تہران افغانستان میں ’سیکیورٹی، استحکام اور امن کے لیے‘ بیجنگ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

    ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ’ملک سے غیر ملکیوں کے انخلا اور ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ تمام افغان شہری افغانستان کی ترقی اور سلامتی کے لیے تعاون کریں۔‘

    شی جن پنگ نے بھی افغانستان میں چین اور ایران کے ’مشترکہ مفادات‘ پر زور دیا اور کہا کہ وہ ’نئی صورتحال میں تعاون اور رابطہ کاری مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  20. طالبان کے پراسرار ترجمان نے آخر کار اپنا چہرا دکھا ہی دیا