آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں؟
طالبان کی ’مثبت سوچ‘ پر شاہد آفریدی کا بیان: ’کیا طالبان خواتین کو کرکٹ کھیلنے دیں گے؟‘
کابل ڈائری: ’اگر دھماکہ خیز مواد گاڑی میں تھا، تو پھر وہ پھٹا کیوں نہیں‘
افغانستان سے امریکی انخلا: دنیا کا سب سے طاقتور ملک جنگیں کیوں ہار جاتا ہے؟
افغان فوج کیوں اتنی جلدی پسپا ہوئی؟
کیا پاکستانی فوج کی جانب سے ’قومی اتفاق رائے‘ پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب ہو سکیں گی؟
افغانستان ایک بے یارو مدد گار ملک
کابل سے لندن کا سفر، صرف 1000 افغانی میں
’گاؤں کے لوگ طالبان سے خوش نہیں تھے، پھر بھی جھوٹ موٹ تعریفیں کرتے‘
طالبان کے ہاتھ جنگی طیارے، گاڑیاں تو لگ گئیں مگر کیا وہ انھیں استعمال کر سکتے ہیں؟
23 برس قبل جب طالبان نے مزارِ شریف فتح کیا: ’ہمیں نہ مارو، ہم عام شہری ہیں‘
صحافیوں کی دعوت، بغیر داڑھی اور ویزا اینٹری: طالبان کا افغانستان کیسا تھا؟
طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا
’خدا کی قسم ہم طالبان کے ساتھ ہیں‘: وسعت اللہ خان کا کالم
افغانستان: کیا طالبان پر دیگر ممالک سے تجارت جاری رکھنے کا دباؤ ہوگا؟
آپریشن سائیکلون: جب امریکہ نے افغانستان میں ’طالبان‘ کو تیار کیا
’دنیا نے افغانوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں لیکن انڈیا نے مجھے واپس بھیج دیا‘
’طالبان کہتے ہیں نوکریوں پر جائیں لیکن جب لوگ کام پر جاتے ہیں تو اُنھیں واپس بھیج دیتے ہیں‘
آمنہ مفتی کا کالم: کابل، شہر افسوس!