آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں،‘ آصف زرداری، وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے: تحریک انصاف
سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک میں بہترین جمہوریت نہیں لیکن یہ آہستہ آہستہ ہی بہتر ہوگی۔ سابق صدر نے کہا کہ ’اسلام آباد والے پاکستان کے مسائل سمجھنے کو تیار نہیں، پاکستان کے مسائل کا حل اصل جمہوری طاقتوں کے پاس ہے۔‘ دوسری طرف تحریک انصاف نے اپنے منشور میں کہا ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
لائیو کوریج
تقسیم ہوتا پاکستان ’چوتھی قسط‘: ’دو کیمپس‘ میں بٹے صحافی اور وی لاگز کی دنیا
تقسیم ہوتا پاکستان ’تیسری قسط‘: کیسز کے بوجھ تلے دبی عدلیہ میں ’تقسیم‘
بشریٰ بی بی: بنی گالہ میں قائم کردہ سب جیل میں قید عمران خان کی اہلیہ کون ہیں؟
الیکشن 2024: ’سیاسی جماعتیں ایلیٹ کلاس کی ان خواتین کو ٹکٹ دیتی ہیں جن کو پارٹی بھی نہیں جانتی‘
سائفر اور توشہ خانہ کیس میں سزائیں: کیا ’حقِ دفاع سے محروم رکھنا‘ اور ’342 کا بیان‘ نہ ہونا اپیل کے مرحلے میں عمران خان کو فائدہ دے گا؟
'اکرم نے دھوکا دے دیا': جب توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا سُنائی گئی
مچھ آپریشن: ’تھانے کی چھت پر کھڑے حملہ آور پولیس کو ہتھیار ڈالنے کے لیے کہتے رہے‘
عمران خان کا ووٹر سائفر اور توشہ خانہ کیسز کے فیصلوں سے مایوس ہوگا یا متحرک؟
توشہ خانہ 2.0: عمران خان کو سرکاری تحائف کے معاملے میں دوبارہ کیوں سزا سنائی گئی؟
’الیکٹیبلز‘ کی سیاست: کیا سرمایہ دار، گدی نشین اور جاگیر دار کا اثر و رسوخ برقرار ہے؟
میرے خلاف فیصلے اوپر سے لکھوائے جا رہے ہیں، سامنے نظر آنے والی کٹھ پتلیاں ہیں: عمران خان
’جج صاحب جلدی آپ کو ہے، مجھے تو جیل میں ہی رہنا ہے‘: اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت اور سزا سنائے جانے کا احوال
عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں قید کی سزا: آخر معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا اور اب آگے کیا ہو گا؟
نئی اننگز مگر پرانا کھیل؟ عاصمہ شیرازی کا کالم
نوجوانوں کو مواقع دینے کے وعدے کرنے والی سیاسی جماعتیں انھیں ٹکٹ دینے سے ہچکچاتی کیوں ہیں؟
کرپشن کے الزامات اور کارکردگی پر سوالوں کے باوجود پیپلز پارٹی سندھ میں بازی کیسے جیت لیتی ہے؟
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
مچھ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں نو حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر
وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے، عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے: چیئرمین تحریک انصاف
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ ہم اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ملک کی ایک بڑی جماعت اور اسٹیبلشمنٹ میں خلیج بدقسمتی ہے اور یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پی ٹی آئی منشور کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے کیونکہ عوام کو اپنا وزیراعظم خود منتخب کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح 50 فیصد سینیٹرز کا بھی براہ راست انتخاب ہونا چاہیے، اس سے ہارس ٹریڈنگ کم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بھی یہی خواہش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اصلاحات ضروری ہیں، ایک ٹروتھ کمیشن بننا چاہیے اور یہ پاکستان کے لیے اہم ہے۔
منشور میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مدت میں ایک، ایک سال کمی کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اسمبلی کی مدت پانچ سال کچھ زیادہ ہی لگتی ہے اور یہ بہتر ہوتا ہے کہ چار سال کی مدت ہو، اگر چار سال قانون سازی پر توجہ دیتے رہیں اور مقامی حکومتیں بھی ساتھ چلتی رہیں تو چار سال اسمبلی کے لیے مناسب مدت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کا منشور دیکھا ہے اور اس کے لیے پوری ٹیم نے چھ مہینے بہت محنت کی ہے لیکن یہ بہت افسوس کی بات اور غیر آئینی طرز عمل ہے کہ ایک جماعت کو پورے انتخابی عمل سے باہر کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تمام ادارے آئین کے تابع ہونے چاہئیں، چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔
’یہ قابل شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں‘
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قابلِ شرم بات ہے کہ بلاول بھٹو اپنے منشور کی بجائے آزاد امیدواروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، اس طرح تو وہ سیاست دانوں کی خرید و فروخت کی سیاست کو فروغ دینے کی بات کر رہے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ افسوس کہ الیکشن کمیشن ہمارے خلاف چل رہا ہے، عدالتی فیصلے سے پہلے ہی انتخابی نشان الاٹ کر دییے گئے۔
انھوں نے کہا کہ آزاد امیدوار ہمارے ہیں، سب کو ٹکٹ جاری کیے اور اگلے انٹرا پارٹی الیکشن میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔