آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 330 سے زائد، سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ

حکام کے مطابق نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں سے اب تک کم از کم 332 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ لاپتہ افراد میں سکیورٹی اہلکار، سیاح اور عام شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 350 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے

خلاصہ

  • نیپال میں سیلاب اور تودے گرنے سے 165 سے زائد افراد ہلاک، 529 سیاحوں سمیت 826 تاحال لاپتہ
  • پمز ہسپتال میں آتشزدگی: اے سی سے آگ لگنےکے شواہد نہیں اور عملے کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، قائمہ کمیٹی
  • سی آئی اے چیف کی روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کا کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او
  • قطری وزیرِ اعظم آج تہران کا دورہ کریں گے
  • آبنائے ہرمز کھلی ہے، جلد بڑی کامیابی حاصل کریں گے: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. پوری قوم نیپال میں اپنے بھائیوں بہنوں کے غم میں شریک ہے: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان کی جانب سے نیپال کے حالیہ سیلاب میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ’نیپال میں بدھ کے روز آنے والے سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر ہمیں گہرے دکھ اور افسوس ہے۔‘

    دفتر خارجہ کے مطابق ’ہمارے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغامات میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے، اور پوری قوم نیپال میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔‘

  2. نیپال میں مزید سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات موجود

    نیپال میں ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات برقرار ہیں۔

    یاد رہے کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب میں اب تک 332 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    تریبھوون یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈیزاسٹر سٹڈیز کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری نے بی بی سی نیوز ڈے کو بتایا ہے کہ آج یا کل سیلاب کی دوسری اور تیسری لہروں کا خطرہ موجود ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ابھی مزید اس بارے میں حتمی طور سے نہیں کہہ سکتے تاہم ہم صورت حال پر نظر رکھنے والے چین میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ زیادہ بارش نہیں ہو رہی، لیکن لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی خطرات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے بقول موسمیاتی تبدیلی واقعی یہاں رونما ہو رہی ہے۔

    بسنت راج ادھیکاری کے مطابق ’ہم مشاہدہ کر رہے تھے، لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کسی خاص دن پیش آئے گا۔‘

  3. بریکنگ, نیپال میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 289 تک پہنچ گئی​‌

    نیپال کی پولیس نے سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین اپڈیٹ میں بتایا ہے کہ بدھ کے روز آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 289 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    بدھ کو آنے والے سیلاب کے بعد ملک کے کئی حصوں میں صورتِ حال بدستور تشویشناک ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق لاپتہ افراد میں سکیورٹی اہلکار، سیاح اور عام شہری شامل ہیں۔

    نیپال کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے آج اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 350 سے زیادہ افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

    فوج کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ریسکیو کیے جانے والوں میں 50 غیر ملکی شہری شامل ہیں جن میں 30 انڈین، آٹھ چینی، آٹھ کوریائی، دو امریکی اور دو اطالوی شہری شامل ہیں۔

    متعدد علاقوں کو ملانے والی سڑکیں اور پل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں،جس کے باعث امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس آفت سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

    ادھر دنیا کے مختلف ممالک نے نیپال میں ہونے والے اس سانحے پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

  4. جنوبی لبنان میں نبطیہ اور دیگر علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں نبطیہ کے مشرقی نواحی علاقے میں واقع علی طاہر کی پہاڑیوں پر دو مرحلوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ علاقے میں کئی شدید دھماکے ہوئے جن کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، جبکہ دھوئیں کے گہرے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

    ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات کے وقت مشرقی زوتار اور مفدون کے درمیان واقع علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

  5. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے پہلے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں عملے نے بتایا ہے کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔
    • چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔
    • برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ایک نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ تاحال ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور روسی انٹیلی جنس سروسز کے حکام کے درمیان ہونے والی ایک غیر اعلانیہ ملاقات سے ’کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘ ٹرمپ نے امریکی اور روسی انٹیلیجنس حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔
    • نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے اب تک کم از کم 165 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 529 سیاحوں سمیت 826 افراد لاپتہ ہیں
    • قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی جمعرات کے روز تہران پہنچیں گے۔ اس دورے کے دوران قطری وزیرِ اعظم ایرانی حکام سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
  6. نیپال میں سیلاب اور تودے گرنے سے 165 سے زائد افراد ہلاک، 529 سیاحوں سمیت 826 تاحال لاپتہ

    نیپال اور تبت میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے اب تک کم از کم 165 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 529 سیاحوں سمیت 826 افراد لاپتہ ہیں۔ اس ساری صورتحال کے متعلق ہم اب تک کیا جانتے ہیں:

    • متاثرہ علاقے میں کام کرنے والے ایک سیاحتی گروپ کا کہنا ہے کہ 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، سیلاب آنے کے بعد سے لاپتہ ہیں اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
    • چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتہ افراد کی تعداد 558 ہو گئی ہے، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس اعداد و شمار میں ان افراد کی دوبارہ گنتی تو نہیں کی گئی جنھیں نیپال کے لاپتہ افراد کے اعداد و شمار شامل کیا گیا ہے۔
    • امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سیلاب ایک گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ کے باعث آیا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔
    • نیپالی فوج نے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کیے ہیں، جو زمینی اور فضائی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
    • چینی حکام کے مطابق تبت کی جانب غیر یقینی موسمی حالات اور علاقے کا دشوار گزار اور دور دراز جغرافیہ امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا رہا ہے۔
  7. پمز ہسپتال میں آتشزدگی: اے سی سے آگ لگنےکے شواہد نہیں اور عملے کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، قائمہ کمیٹی

    جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ارکان نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں گذشتہ روز آتشزدگی کے باعث 14 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

    کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ نرسری میں لگے ایک پرانے اے سی سے سپارک نکلا جس سے آگ لگی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں عملے نے بتایا ہے کہ وہ اے سی کافی عرصے سے بند تھا جبکہ وہاں لگے دیگر دو اے سی پورٹیبل تھے۔

    ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ انھیں عملے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہاں تاروں کا ایک گچھا تھا جس سے آگ لگی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عملے کی جانب سے دیے گئے متضاد بیانات کی بنیاد پر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ فی الوقت کسی کو آگ کے ذریعے کا نہیں پتا۔

    جے یو آئی کی رکن کمیٹی عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ عملے کے بیانات سے ایسا تاثر ملا جیسے انھیں بتایا گیا ہو کہ انھوں نے کیا کہنا ہے۔ ’ایک نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ جیسے اے سی میں دھماکہ ہوا اور اس سے آگ لگی۔‘

    ڈاکٹر مہیش کا کہنا تھا کہ جس نرسری میں آگ لگی وہ 1990 میں بنی تھی جبکہ دوسرا وارڈ نیا بنا ہوا ہے۔ ’ہماری رائے ہے کہ نرسری نئے بلاک میں ہونی چاہیے تھی۔‘

    ’یہ نرسری بچوں کو رکھنے کے لیے فٹ نہیں تھی، یہاں گائنی کا وارڈ ہونا تھا۔‘

    کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور عملے کی جانب سے جس طرح کے متضاد بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یا تو وہاں کوئی ڈیوٹی پر نہیں تھا یا پھر جو ڈیوٹی پر تھے وہ اس جگہ پر موجود نہیں تھے۔

  8. نیپالی فوج نے لاپتہ افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 اہلکار تعینات کر دیے, فنیندر دہال، بی بی سی نیپالی، کھٹمنڈو

    نیپالی فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

    فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے تین افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔

    نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس نے بھی تلاش کی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے ہیں۔

  9. تبت میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد 558 ہو گئی

    چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔

    سی سی ٹی وی نے بتایا کہ لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بدستور تین ہے۔

    گیرونگ کی سرحد چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور دیگر آمدورفت کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے۔

    بدھ کو چینی سرکاری میڈیا نے سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے فوراً بعد ’بڑے پیمانے پر جانی نقصان‘ کی اطلاعات دی تھیں۔

    اس سے قبل نیپال نے کہا تھا کہ تقریباً 579 سیاح لاپتہ ہیں، جن میں 466 غیر ملکی شامل ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا دونوں جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کچھ افراد کو دو مرتبہ تو شمار نہیں کیا گیا۔

  10. آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: یو کے ایم ٹی او

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) نے بدھ کو بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو ایک نامعلوم قسم کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔ بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔ تاحال ماحولیاتی آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ گذشتہ دو روز کے دوران ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور بارودی سرنگوں کی مشترکہ صفائی کی کارروائیوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب واشنگٹن نے ایران پر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں بچھائی گئی بحری بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔

    فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی تھی، تاہم گذشتہ چھ ماہ کے دوران جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    ایران نے بدھ کے روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اگرچہ حالیہ دنوں میں اس نے امریکی اقتصادی دباؤ کے جواب میں خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ردِعمل دے گا۔

  11. سی آئی اے چیف کی روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کا کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ اور روسی انٹیلی جنس سروسز کے حکام کے درمیان ہونے والی ایک غیر اعلانیہ ملاقات سے ’کچھ نتیجہ نکل سکتا ہے۔‘

    سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ماسکو کے دورے کی وجہ کے متعلق کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ وہ منگل کے روز ایک فوجی طیارے کے ذریعے روسی دارالحکومت پہنچے تھے اور چند گھنٹوں بعد واپس روانہ ہو گئے۔ اس دورے کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے امریکی اور روسی انٹیلی جنس حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، تاہم انھوں نے اس ملاقات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ’یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتا ہے۔‘

    دونوں ممالک کے انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس نوعیت کی آخری ملاقات روس کی جانب سے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیے جانے سے کچھ ماہ قبل ہوئی تھی۔

    دوسری جانب کریملن کا کہنا ہے ریٹکلف نے اپنے دورۂ ماسکو کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات نہیں کی۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ رابطے ہوئے تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’روسی صدر کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔ فطری طور پر صدر پوتن کو ہر پیش رفت سے فوری طور پر آگاہ کر دیا جاتا ہے۔‘

    پیسکوف نے یہ بیان روسی اخبار روسیسکایا گزیٹا کے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں دیا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ آیا ولادیمیر پوتن کو سی آئی اے کے سربراہ کی ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا اور یہ رابطے کس سطح پر ہوئے تھے۔

    بی بی سی کے روسی امور کے ایڈیٹر سٹیو روزنبرگ نے بھی کریملن کے ترجمان سے روسی انٹیلی جنس حکام اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں سوال کیا، تاہم پیسکوف نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  12. نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 162 افراد ہلاک، سینکڑوں تاحال لاپتہ

    نیپال اور تبت کی سرحد پر آئے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو تقریباً 24 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔

    تباہی کی تازہ ترین صورتِ حال:

    • نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 162 ہو گئی ہے۔ پولیس نے جمعرات کی صبح جاری ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں۔ بیان کے مطابق اب بھی لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
    • خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 403 افراد لاپتہ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق انڈیا سے ہے۔
    • فضا سے لی گئی تصاویر میں نیپال کے ضلع رسووا میں واقع بھوٹے کوشی دریا کے علاقے میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
    • نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق پورا ملک صدمے میں ہے۔ بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔
    • اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً آٹھ ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، چین، یورپی یونین اور انڈیا ان ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
    • حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور ’گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ‘ نے اس زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
    • ماہرین اب بھی واقعات کی پوری ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے زیادہ تیزی سے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔
  13. قطری وزیرِ اعظم آج تہران کا دورہ کریں گے

    قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی جمعرات کے روز تہران پہنچیں گے۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران قطری وزیرِ اعظم ایرانی حکام سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا یہ دورہ قطر کے اس مستقل مؤقف کا تسلسل ہے کہ اختلافات کے حل اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی راستہ ہی بہترین ذریعہ ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حمل اور اس بات کی ضرورت پر بھی بات چیت کی جائے گی کہ وہاں کی صورتِ حال کو 28 فروری سے پہلے والی حالت پر واپس لایا جائے۔

  14. بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    دو دیگر اضلاع چاغی اور قلات میں چھ مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مستونگ میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا گیا۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے بتایا کہ ’گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے خاران شہر میں ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار الرٹ تھے اور انھوں نے فوری کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور مزید کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے اور فرار ہوگئے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔‘

    خاران کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’رات دس بجے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں شدید فائرنگ اور دھماکوِں کی آوازیں سنائی دیں جس سے شہریوں میں خوف ہراس پھیل گیا۔‘

    خاران میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے شہر میں اندر آنے اور جانے کے مختلف راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’مسلح افراد اور پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کا سلسلہ رات دیر تک جاری رہا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا تاہم بعد میں ان کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ دیا گیا۔‘

    ادھر خاران سے متصل ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ روز فائرنگ کرکے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

    چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’نامعلوم مسلح افراد نے گاڑیوں کو چہتر کے علاقے میں نقصان پہنچایا۔‘

    ضلع قلات میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا۔

    قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ نے فون پر بتایا کہ ’دونوں گاڑیوں میں سیمنٹ لوڈ تھا فائرنگ سے ان کی ٹائروں کو نقصان پہنچا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کارروائی کی جس کی وجہ سے حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہوگئے۔‘

    ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے نقصان پہنچایا۔

    ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر پل کو دھماکے سے جزوی طور پر نقصان پہنچا لیکن ٹریفک کی روانی متائثر نہیں ہوئی۔‘

  15. کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے رینجرز اہلکار ہلاک: پولیس

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پونچھ ڈویژن کے ڈی آئی جی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئے۔

    ڈی آئی جی کے ترجمان کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ ارکان نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑک کو بند کر رکھا ہے، جسے کھلوانے کے لیے ’کلیئرنس آپریشن‘ کیا جا رہا ہے۔

    پریس ریلیز کے مطابق سرساوہ تا تراڑ کھل سڑک پر کلیئرنس آپریشن کے دوران ’کالعدم کمیٹی کے سنائپر‘ نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں رینجرز کے سپاہی شاہ نواز سینے میں گولی لگنے سے ہلاک، جبکہ لانس نائک بلال کندھے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے اس دعوے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جماعت جموں کشمیر جوائینٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ’منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے تراڑکھل کے قریب ان کی تنظیم کے کارکنان اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان پر بلا اشتعال فائرنگ کی دی جس کے نتیجے میں ان کی تنظیم کا ایک کارکن ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کے نتیجے میں رینجر کے ایک اہلکار کی ہلاکت سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کی خبر ان تک بھی پہنچی ہے لیکن وہ اس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔‘

  16. پشاور میں پولیس چوکی کے قریب دھماکہ، دو اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی

    ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور کے علاقے چمکنی میں ترناب فارم چوکی کے قریب نا معلوم افراد کی جانب سے بارودی مواد پھینکے جانے کے نتیجے میں دھماکہ ہوا، جس کے باعث ڈیوٹی پر موجود دو پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

  17. آبنائے ہرمز کھلی ہے، جلد بڑی کامیابی حاصل کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے اور ’گذشتہ رات ہم نے 22 کشتیاں وہاں سے نکالی ہیں۔‘

    ٹرمپ نے یہ انٹرویو امریکی مبصر اور سبسکرپشن سٹریمنگ نیٹ ورک بلیز میڈیا کے بانی گلین بیک کو دیا۔

    انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف کامیابی میں امریکی بحریہ، فوج اور ملک کی معاشی طاقت نے اہم کردار ادا کیا ہے اور امریکہ ’بہت بڑی فتح‘ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا میں بھی بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور ’یہاں بھی بہت جلد کامیابی حاصل ہو گی۔‘

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ ’بہت بری طرح زخمی ہوئے تھے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہلاک ہوئے ہیں۔‘

  18. ’میرے اہلِ خانہ میری آنکھوں کے سامنے سیلاب میں بہہ گئے‘

    نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا اتنی تیزی سے آیا کہ لوگوں کو جان بچانے کا موقع ہی نہیں ملا۔

    نیپال کے ضلع نوواکوٹ سے تعلق رکھنے والی کلپنا ملا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اہلِ خانہ ان کی آنکھوں کے سامنے سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔

    ان کے مطابق ان کے والد، والدہ، بہن اور بہن کے بچے سب سیلاب کی نذر ہو گئے۔

    کلپنا ملا نے کہا: ’وہ سیلاب سے بچ کر نکل نہیں سکے، اس کا کوئی موقع ہی نہیں تھا۔ اس سیلاب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔ میں اور میرا بیٹا ایک گھر کی چھت پر چڑھ گئے اور بچ گئے۔‘

    ان کے بیٹے سگم ملا نے بتایا کہ انھوں نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انھیں بچایا۔

    انھوں نے کہا: ’اس سے پہلے میں نے اپنا موبائل فون اپنی بہن کو دیا تھا تاکہ وہ مدد کے لیے رابطہ کر سکیں، لیکن اب ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ ان کا فون بند ہے اور مجھے خوف ہے کہ شاید وہ بھی سیلاب میں بہہ گئی ہوں۔‘

    ایک اور متاثرہ خاتون گوما پنڈت نے بتایا کہ وہ اپنے مویشیوں اور زرعی زمین سے محروم ہو گئی ہیں۔

    دوسری جانب نیپال پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں اچانک آنے والے سیلاب کی شدت دیکھی جا سکتی ہے۔ حکام نے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم فوٹیج میں دریا کے کنارے ٹوٹتے اور پانی کے بلند ریلے آبادیوں کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

    پولیس نے سوشل میڈیا پر عوام سے ایک دوسرے کی مدد کرنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

  19. نیپال میں سیلاب سے تباہی: 95 افراد ہلاک، انڈین شہریوں سمیت 403 سیاح لاپتہ

    نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 95 ہو گئی ہے، جبکہ 403 سیاح اب بھی لاپتہ ہیں۔

    نیپال ٹورازم بورڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد میں 200 خواتین اور 203 مرد شامل ہیں۔ حکام کے مطابق غیر ملکی لاپتہ افراد کا تعلق 26 مختلف ممالک سے ہے۔

    ان میں انڈیا کے 133، امریکہ کے 47 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔

    ٹورازم بورڈ کے مطابق بیشتر لاپتہ افراد مانسرووار کی جانب سفر کر رہے تھے، جو انڈیا اور نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    دوسری جانب سیلابی ریلوں کی شدت سے دریائے تریشولی پر واقع متعدد پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق بالائی علاقوں سے بہہ کر آنے والے ملبے نے دو الگ پلوں کو نشانہ بنایا۔

    بی بی سی ویریفائی کے مطابق گھاٹ بیسی پل، جو تریشولی قصبے سے تقریباً 27 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، ایک دوسرے پل کے ملبے سے ٹکرانے کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور بعد ازاں سیلابی پانی میں بہہ گیا۔

    ایک دوسری ویڈیو میں دھاڈنگ بیسی پل بھی شدید سیلابی ریلے کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پل گھاٹ بیسی سے تقریباً چھ کلومیٹر مزید مغرب میں واقع ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب اپنے ساتھ ایک تباہ شدہ پل کا ملبہ بھی لے کر آ رہا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

    ایک دوسری ویڈیو میں دھاڈنگ بیسی پل بھی شدید سیلابی ریلے کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ پل گھاٹ بیسی سے تقریباً چھ کلومیٹر مزید مغرب میں واقع ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیلاب اپنے ساتھ ایک تباہ شدہ پل کا ملبہ بھی لے کر آ رہا تھا۔

  20. نیپال اور تبت کی سرحد پر سیلاب سے تباہی کے مناظر