پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل
احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ افغان سر زمین
پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
میڈیا ادارے العربیہ انگلش کو
انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے حوالے
سے فوج کا بھی وہی مؤقف ہے جو سیاسی قیادت کا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا
کہنا تھا کہ متعدد شدت پسند تنظیمیں اب بھی افغانستان سے سرگرم ہیں اور یہ صرف
پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔
ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ
اگر سفارت کاری ناکام ہو جائے تو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے
پاکستان کن اقدامات کو جائز سمجھتا ہے۔
احمد شریف چوہدری نے جواب دیا کہ اقوام
متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 51 دفاع کا حق دیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں
کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کا پابند ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کیے
جائیں گے، چاہے خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا
کہنا تھا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں
نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
بلوچستان کی صورتحال پر سوال کے جواب
میں انھوں نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ وہاں کوئی شورش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا
کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے وہ شورش نہیں بلکہ ’دہشت گردی‘ قرار دیتے
ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جہاں ایک جانب
انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہیں ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی،
عوامی روابط اور معاشی مواقع پر بھی کام ہو رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے
کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اچھی حکمرانی، مواقع اور مسلسل توجہ ملنی چاہیے، جبکہ
تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔
العربیہ انگلش پر انٹرویو کے دوران پاکستان
فوج کے ترجمان سے مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ عسکری تنازع کے بارے میں بھی سوال
کیا گیا کہ ’پاکستان فوج نے اس سے کیا سیکھا؟‘
جواب میں انھوں نے کہا کہ پہلا سبق یہ ہے کہ دو ہمسایہ جوہری
طاقتوں کے درمیان فوجی تنازع ایک سٹریٹیجک غلطی ہے۔
ترجمان پاکستان فوج سے پوچھا گیا کہ
کیا انڈیا نے یہ سبق سیکھ لیا ہے؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے
کہا کہ اس کا جواب انڈیا کو دینا ہے، ’تاہم پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے یہ
حقیقت مسلسل یاد دلاتا رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان مساوی
بنیادوں پر امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، تاہم اگر فوجی جارحیت کے ذریعے
علاقائی بالادستی کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کا ’تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے
کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے
میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
مستقبل میں جوہری تصادم کے خطرات سے
متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کو حملے سے باز رکھتی
ہے، جبکہ سیاسی قیادت کا تحمل اور رابطے بھی کشیدگی روکنے میں اہم کردار ادا کرتے
ہیں۔
انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ
کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوج سے فوج کے روابط کی بحالی کے امکانات موجود
ہیں۔
ترجمان پاکستان فوج نے جواب دیا کہ
دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن کئی دہائیوں سے
مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہے، حتیٰ کہ کشیدگی کے ادوار میں بھی۔
انڈیا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے
متعلق سوال پر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ سیاسی قیادت نے کرنا
ہے، تاہم کوئی بھی بات چیت مساوات، باہمی احترام اور مسائل کے مخلصانہ حل کی کوشش
پر مبنی ہونی چاہیے۔
انڈیا کی دفاعی صلاحیتوں کے بارے میں
ایک سوال کے جواب میں ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان فوجی
صلاحیتوں میں انڈیا کی سرمایہ کاری سے آگاہ ہے، تاہم
پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔
انھوں
نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ملک کو اپنی دفاعی
استعداد پر مکمل اعتماد ہے۔