پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پیر کی شب بلوچستان میں پیش آئے دو مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں سکیورٹی فورسز کے دو افسران سمیت پانچ اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعات بلوچستان میں نوکچہ (ضلع چاغی) اور زیارت کراس (ضلع پشین) کے علاقوں میں پیش آئے ہیں۔
زیارت کراس میں کسٹمز ہاؤس پر حملہ
آئی ایس پی آر کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک شدت پسندوں نے ضلع پشین میں واقع کسٹمز ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم اس موقع پر ’سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیتے ہوئے‘ 10 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر ہونے والی فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں فوج کے پانچ اہلکار (جن میں دو افسران بھی شامل ہیں)، جبکہ محکمہ کسٹمز کے ایک اہلکار ہلاک ہوئے۔
ضلع پشین میں سرکاری حکام کے مطابق شدت پسندوں کے اس حملے کے نتیجے میں کسٹمز ویئر ہاؤس میں موجود گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پشین میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کسٹمز کے ویئر ہاؤس میں اُن گاڑیوں کو آگ لگی جو مختلف کیسز میں پکڑی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ابتدا کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔
پشین کے علاقے زیارت کراس میں واقع کسٹمز ہاؤس پر ہونے والے اس حملے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جن میں گاڑیوں میں آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
منگل کے روز پی ڈی ایم اے بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کسٹمز گودام میں بھڑکنے والی آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ ٹیموں نے واقعے پر فوری ردِ عمل دیا اور کوشوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
زیارت کراس ضلع پشین میں کوئٹہ شہر سے شمال مشرق میں اندازا 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ زیارت کراس کے مقام پر محکمہ کسٹمز کی ایک بڑی چیک پوسٹ اور ویئر ہاؤس کے علاوہ سیکورٹی فورسز اور پولیس کی بھی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔
زیارت کراس کے قرب و جوار کے علاقوں میں وقتاً فوقتاً بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ اس سے قبل زیارت کراس سے اندازاً چالیس سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع زیارت میں جولائی کے پہلے ہفتے میں مانگی کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں نو پولیس اہلکار موقع پر مارے گئے تھے جبکہ 22 اہلکاروں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’کسٹمز ہاؤس پر حملہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا مظہر تھا، جس کا مقصد کسٹمز حکام کو ان کی قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنا اور علاقے میں مجرمانہ سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔‘
سکیورٹی فورسز کے مطابق گرد و نواح کے علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی ماندہ شدت پسند کا خاتمہ کیا جا سکے اور مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ اہم قومی شاہراہوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
کوئٹہ، تفتان شاہراہ پر کیا واقعہ پیش آیا؟
آئی ایس پی آر کے مطابق31 اگست (پیر) کو کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں نے این-40 کوئٹہ تا تفتان شاہراہ پر ’مسافروں کی پرامن آمد و رفت میں خلل ڈالنے اور بھتہ خوری کی غرض سے ایک غیرقانونی چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔‘
اعلامیے کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی جس کے نتیجے میں 11 عسکریت پسند موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔