اسرائیلی
وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران
ایران، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں اپنے ملک کی فوجی کارروائیوں کا
بھرپور دفاع کیا۔
اپنی
تقریر کے آغاز پر درجنوں مندوبین احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے، جس کے بعد
نیتن یاہو نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ’ہم جیتیں گے۔ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں
ہے۔‘
واک
آؤٹ کرنے والے مندوبین کے ردِعمل میں انہوں نے کہا: ’اگر یہاں کوئی اور اخلاقی بزدل موجود ہے جو ابھی تک ہال سے نہیں
گیا، تو براہِ کرم اب چلا جائے۔‘
اسرائیلی
وزیرِ اعظم نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا
مرتکب ہو رہا ہے۔
اس سے
چند گھنٹے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے
ذریعے اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی پالیسیاں، خصوصاً
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی غیر قانونی توسیع، ’فلسطینی عوام کی اپنی
سرزمین پر بقا اور وجود ہی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘
انھوں
نے کہا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں، جسے اسرائیل اور
فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔
محمود
عباس کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کو اسرائیلی فوج کی جانب سے ’قتل،
تباہی، بھوک، جبری بے دخلی کی کوششوں اور نسل کشی پر مبنی جنگ‘ کا سامنا ہے۔
فلسطینی
صدر نے سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، کیونکہ انہیں امریکا کا ویزا
جاری نہیں کیا گیا تھا۔
بین
الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں
گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کرنے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان
ممالک اور رہنماؤں پر سخت تنقید کی جنہوں نے ان کی پالیسیوں اور اقدامات پر اعتراض
کیا ہے۔
انہوں
نے کہا ’وہ اسرائیل، چھوٹے سے اسرائیل، پر نوآبادیات کا الزام لگاتے ہیں۔ اور یہ
الزام کون لگا رہا ہے؟ ان میں برطانیہ اور فرانس کے لوگ بھی شامل ہیں۔ خدا کے لیے،
نوآبادیات کی اصطلاح تو انھوں نے خود ایجاد کی تھی۔‘
نیتن
یاہو نے بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوغان کو ’آمر‘ قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینی
مسلح گروپ حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا۔
یاد
رہے کہ اردوان نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ سے خطاب میں کہا تھا کہ غزہ اور مغربی
کنارے کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں ’انسانیت کے ضمیر کو گہری ٹھیس
پہنچاتی ہیں‘۔
نیتن
یاہو کے بیانات پر ترکی کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا۔
ترک
ایوانِ صدر کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ
اعظم کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو ترکیہ اور اردوان کے خلاف ’بے
بنیاد الزامات‘ لگانے کے لیے استعمال کرنا اقوامِ متحدہ کے ’امن، قانون اور مکالمے‘
کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سرکاری
خبر رساں ادارے کے مطابق دوران نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات سفارتی آداب اور بین
الاقوامی تعاون کے جذبے کے خلاف ہیں۔
نیتن
یاہو نے نیویارک شہر کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر ظہران ممدانی کو بھی
تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممدانی اس سے قبل یہ کہہ چکے تھے کہ وہ نیتن یاہو کو گرفتار
کریں گے، تاہم بعد میں انھوں نے وضاحت کی تھی کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی
اختیار موجود نہیں۔