مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کے مطابق پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر اسے بند کیا گیا۔ ریاض اور بغداد دونوں کا کہنا ہے کہ حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز ملیشیائیں سرگرم ہیں۔ واقعے کے بعد عراق نے ایک فوجی کمانڈر کو برطرف بھی کر دیا۔
تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن گذشتہ چھ ماہ کے دوران خلیجی تیل کی عالمی ترسیل کا اہم راستہ بنی ہوئی تھی، کیونکہ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جا رہا تھا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً چار سے پانچ فیصد بنتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے بتایا کہ حملے میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں مدینہ کے جنوب میں پائپ لائن کے قریب سیاہ دھواں اٹھتا دکھائی دیا، تاہم فوری طور پر کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو آئرلینڈ میں ایک گولف ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے موجود ہیں، نے کہا کہ حملے کے پیچھے غالباً ایران کا ہاتھ ہے۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس کے مطابق حوثیوں کی جانب سے فائر کیے گئے ایک میزائل یا پروجیکٹائل سے جازان ریجن میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد سمیت متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
سعودی ولی عہد کی امریکہ سے فوجی مدد کی درخواست
گذشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت چھے ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔ اس صورتحال کی وجہ خلیج میں کشیدگی، ٹینکروں پر حملے اور بحیرہ احمر کے کنارے حوثیوں کی پیش قدمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ٹرمپ نے سنیچر کے روز تصدیق کی کہ ان کی ولی عہد سے بات ہوئی تھی۔ ان کے بقول حوثیوں نے بھی امریکی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ امریکہ تنازع میں براہ راست فریق نہ بنے۔
باب المندب میں حوثیوں کا قبضہ
یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جمعے کے روز باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع انتہائی اہم جزیرے ’پریم‘ پر قبضہ کر لیا ہے۔ باب المندب کو بحیرہ احمر کا مرکزی دروازہ تصور کیا جاتا ہے اور عالمی تجارت کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہے۔
یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی جن پر حوثیوں نے حالیہ برق رفتاری سے کیے گئے حملوں کے دوران قبضہ کیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی براہ راست رہنمائی میں ہوئی، تاہم ایران حوثیوں کو صرف اتحادی قرار دیتا ہے اور عسکری ہدایات دینے کی تردید کرتا ہے۔
ادھر حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا ہے کہ سعودی جہازوں کے سوا دیگر تمام بحری جہازوں کے لیے سمندری راستے محفوظ ہیں، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے عائد پابندی برقرار رہے گی۔
سعودی پائپ لائن پر حملے کا مبینہ طور پر عراق سے ہونا بغداد حکومت کے لیے نئی مشکل بن گیا ہے، کیونکہ عراق خطے کا ایسا ملک ہے جس کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ عراقی حکومت نے ایران کی سرحد کے قریب واقع میسان صوبے کے فوجی کمانڈر اور پولیس چیف کو برطرف کر دیا ہے اور مرکزی سرحدی گزرگاہ بھی بند کر دی ہے۔