یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
14 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنھوں نے، پاکستانی وزیرِ اعظم کے مطابق، گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
14 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انڈیا کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی ’یکطرفہ معطلی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے پانی کو اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ’یادگارِ فتح‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا ہے تھا کہ ’پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ اگر انڈیا راہ است پر نہیں آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘
یاد رہے انڈیا کی حکومت نے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایک جوابی قدم اٹھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔
پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کو تمام تنازعات سے پاک دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے دور رہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسی سبب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ’ذمہ دار ثالث‘ کا کردار ادا کیا۔
اپنی تقریر میں جہاں انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ’تاریخی کردار‘ کو سراہا، وہیں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدے سے متعلق معاملات پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی بہت محنت کی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنھوں نے، پاکستانی وزیرِ اعظم کے مطابق، گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائیں۔
پاکستان کے گذشتہ کئی مہینوں سے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات بھی کشیدگی کا شکار ہیں اور اسلام آباد کابل پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات بھی عائد کرتا رہا ہے۔
اس حوالے سے پاکستانی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتے ہیں، لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا ناقابلِ برداشت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا کی بڑی کنٹینر شپنگ کمپنیوں میں شامل جرمن کمپنی ہاپاگ لوئیڈ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران اب تک کمپنی کو 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
اس جرمن شپنگ کمپنی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس کے خالص منافع میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
کمپنی نے گذشتہ سال تقریباً 30 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا خالص منافع ریکارڈ کیا تھا، تاہم اس سال آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یہ رقم کم ہو کر آٹھ کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گئی ہے۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایشیا سے برآمدات امریکہ میں طلب میں اضافے نے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے ہونے والے نقصانات کا جزوی طور پر ازالہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ کویت نے عالمی شدت پسند تنظیم داعش کے تین ارکان کو اہل تشیع کی ایک مسجد اور ملک کی ’اہم تنصیبات‘ پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اس ذریعے نے کہا کہ یہ افراد داعش کے ایک سیل سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں کم عمر افراد بھی شامل تھے۔ ان کا مقصد مذکورہ مسجد اور ایسے مقامات کو نشانہ بنانا تھا جو ملک کی اہم تنصیبات شمار ہوتے ہیں۔
کویت کی وزارتِ داخلہ اس سے قبل اعلان کر چکی ہے کہ اس نے داعش سے منسلک دو کم عمر افراد کو گرفتار کیا ہے، انھیں ایک عبادت گاہ پر حملے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔
وزارت نے ایسے کویتی شہری کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا تھا جو داعش کا رکن تھا اور ’اہم تنصیبات‘ پر حملے کے لیے ایک ڈرون تیار کر چکا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر آصف علی زرداری نے حکومت کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز میں اضافے کی سمری منظور کر لی ہے۔
صدر کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کر دی گئی ہیں۔ حکومتی سمری کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق دسمبر 2025 سے ہو گا اور ججز کو اس مدت کے بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔
سمری کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں تقریباً چار لاکھ روپے ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ 11 لاکھ روپے سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ جبکہ چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی تین لاکھ 39 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ججز کے میڈیکل الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور اب انھیں اس مد میں ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔
صدر مملکت نے ہائیکورٹس کے ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافے کی منظوری دی ہے۔ سمری کے مطابق ہائیکورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار روپے سے بڑھ کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
سمری میں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے لیے ایک نئی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کے تحت جو جج کم از کم دو سال تک ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہوں، انھیں ریٹائرمنٹ یا سپریم کورٹ کا جج مقرر ہونے کی صورت میں سرکاری گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ترکی کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر جنگی مشقیں کی جائیں گی۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے گذشتہ ہفتے ’مکہ معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اس معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترک وزارت دفاع کے ترجمان ریئر ایڈمرل ذکی آکٹرک نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان ’عسکری تعاون کو مرحلہ وار فروغ دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
’اس ضمن میں کمانڈ پوسٹ اور فیلڈ مشقوں سے آغاز کرتے ہوئے بعد کے مراحل میں بری، بحری، فضائی، فضائی دفاعی اور بغیر پائلٹ نظاموں کی شمولیت کے ساتھ مشترکہ مشقیں منعقد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان مشقوں کا مقصد ممکنہ بحرانوں سے قبل ضروریات اور کمیوں کی نشاندہی کرنا، حاصل شدہ تجربات کو عسکری نظریات، تربیت اور منصوبہ بندی کے عمل میں منتقل کرنا اور مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنانا ہے۔‘
پریس بریفنگ میں ترجمان ترک وزارتِ دفاع نے مزید کہا: ’دفاعی صنعت میں تعاون اس معاہدے کے اہم عناصر میں سے ایک ہے۔‘ ان کے مطابق نہ صرف دفاعی نوعیت کی مصنوعات اور نظام خریدے جائیں گے بلکہ مشترکہ طور پر تیار بھی کیے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ ’بغیر پائلٹ اور خود کار نظام، الیکٹرانک جنگی صلاحیتیں اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی عسکری صلاحیتیں تعاون کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہیں۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’معاہدے کے تحت وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور مسلح افواج کے سربراہان کی شرکت سے سٹریٹجک سیاسی اور عسکری نظام بنانے کی تجویز ہے۔‘
ترک وزارت دفاع کے ترجمان ریئر ایڈمرل ذکی آکٹرک نے مزید کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا ’بنیادی ہدف علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار ادا کرنا، عسکری تعاون کو فروغ دینا اور ممکنہ بحرانوں کے مقابلے میں مشترکہ طور پر عمل کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، ’ہمارا حتمی ہدف ایک ایسا ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہے جو امن کے دور میں مؤثر طور پر کام کرے، ممکنہ بحرانوں کے لیے تیار ہو اور ضرورت پڑنے پر ٹھوس عسکری معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘
ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینیئر عہدے دار رسول سنائی راد نے کہا ہے کہ اگر کوئی نئی جنگ ہوتی ہے تو ایران ’زیادہ مضبوطی سے اور زیادہ جارحانہ انداز‘ میں کارروائی کرے گا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق سنائی راد نے یہ بھی کہا: ’دشمن سمجھتا ہے کہ اندرونی اختلافات اور اقتصادی دباؤ پیدا کر کے وہ جنوری جیسے واقعات کو دوبارہ دُہرا سکتا ہے، اور اسی مقصد کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔‘
گذشتہ روز ایران کی فوج کے ایگزیکٹو نائب علی رضا شیخ نے بھی کہا تھا کہ ایران ’ایک طویل جنگ‘ اور آپریشنز کے تسلسل کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ایران کا نظریہ اب محض اپنے دفاع سے تبدیل ہو کر ایسے فعال اقدامات کرنے کی جانب منتقل ہو گیا ہے جن کے نتیجے میں دشمن کو حملہ کرنے کی جرآت ہی نہ ہو۔
علی رضا شیخ نے کہا تھا کہ ایران کی میزائل اور ڈرونز کی پیداواری صلاحیت اسے طویل مدت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے قابل بناتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کی وزارتِ اطلاعات نے سیستان اور بلوچستان میں امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ دو ’منظم سیلز‘ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
وزارت کے مطابق چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید دو افراد سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے۔ وزارتِ اطلاعات نے کہا ہے کہ ’یہ افراد جنوبی سیستان و بلوچستان کے اقتصادی انفراسٹرکچر پر حملے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
اس بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا ہے کہ چار افراد پر مشتمل ایک گروہ بھی گرفتار کیا گیا ہے جس پر زاہدان میں شہریوں کے اغوا اور ان کے اہلِ خانہ سے بھتہ وصول کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں پولیس کے سربراہ ایس ایس پی خاور علی شوکت نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے آٹھ پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کے مطابق مغوی اہلکاروں کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ انتخابات کے دوران ڈیوٹی کے لیے کشمیر آئے تھے۔ تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ اہلکاروں کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا۔
راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کے دوران خاور علی نے کالعدم تنظیم کے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ مغوی اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اہلکاروں کو نقصان پہنچا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ تنظیم کے کارکن نہ صرف ریاست بلکہ ریاستی نظام کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے پولیس اہلکاروں کے اغوا کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہلکار ان کی تنظیم کی تحویل میں نہیں ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں عابد شاہین نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، چاہے ان کا تعلق پاکستان کے کسی بھی حصے سے ہو، ان کے لیے قابل احترام ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تنظیم سے وابستہ افراد پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے باہر سے آنے والے افراد کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور بعد ازاں انھیں جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ’پولیس میں سب سے نچلا رینک سپاہی کا ہوتا ہے اور اس رینک کے آٹھ افراد کو یرغمال بنانے سے ان کی نتظیم کو کیا حاصل ہو گا؟‘
عابد شاہین کے مطابق پونچھ ڈویژن میں احتجاج جاری ہے اور اگلے لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ سے زائد عرصے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایس ایس پی راولاکوٹ کا کہنا تھا کہ ریاست موجودہ حالات میں تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انھوں نے الزام لگایا کہ ’کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے راولاکوٹ میں عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے‘ اور وہ ’اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کشمیر کے عوام پُر تشدد احتجاج کو مسترد کر رہے ہیں اور عوام کی جانب سے تنظیم سے رابطے منقطع کرنا اس کا واضح ثبوت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ترکی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے تناظر میں تینوں ممالک مزید ہم آہنگی کے لیے مشترکہ عسکری اور سیاسی نظام تشکیل دیں گے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ فوجی کمانڈر شامل ہوں گے۔ وزارت کے مطابق مشترکہ فوجی مشقوں کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ تعاون میں دفاعی صنعتوں میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے گذشتہ ہفتے ’مکہ معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہBurak Kara/Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جعلی خبروں سے بھی زیادہ بری چیز جعلی انٹیلی جنس معلومات ہیں، انھوں نے امریکہ کو ’محتاط رہنے‘ کا مشورہ دیا۔
گذشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ایران کے پاس پیسہ نہیں ہے، ’ان کے پاس صرف جعلی خبریں اور 300 فیصد مہنگائی ہے۔‘
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’امریکہ کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ میرے خیال میں ہم اسے برقرار رکھیں گے!‘
آج بدھ کے روز، بظاہر امریکی صدر کو جواب دیتے ہوئے عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’امریکہ طویل عرصے سے انٹیلی جنس کی ناکامیوں کے باعث غلط اندازے لگاتا رہا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ایران کے خلاف جنگ ہے۔ اب آبنائے ہرمز کے معاملے میں اندازوں کی اس سے بھی بڑی غلطی کی جا رہی ہے۔‘
عباس عراقچی نے برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت 30 سے زیادہ ممالک کی جانب سے ایران میں پھانسیوں کی مذمت کرنے پر بھی درعمل دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فرانس جیسے ممالک کو ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے بارے میں دنیا کو وعظ دینا‘ بند کر دینا چاہیے۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں فرانس پر ’منافقت‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت اور ایران پر حملوں کی حمایت نے ’ہر اس اخلاقی برتری کو ختم کر دیا ہے جس کا آپ تصور کرتے ہیں کہ آپ کے پاس موجود ہے۔‘
فرانس، برطانیہ، کینیڈا سمیت 30 سے زائد ممالک نے ایران میں پھانسیوں کے خلاف اپنے مشترکہ بیان میں کہا تھا: ’مخالفین کو خاموش کرنے اور خوف پھیلانے کے لیے سزائے موت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں۔ ایران کے عوام کو خوف کے بغیر اپنی رائے کے اظہار اور پُر امن اجتماع کا حق ہونا چاہیے۔‘
یہ مشترکہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب حالیہ مہینوں میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایران میں پھانسیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے آج علی الصبح نابلس کے تین قصبوں اور دیہات میں کارروائیاں کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے دوران فوجی گاڑیاں نابلس کے شمال مغرب میں واقع برقہ، جنوب میں قصرہ اور مشرق میں سالم گاؤں میں داخل ہوئیں۔
وفا کے مطابق برقہ میں اسرائیلی فورسز نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے اور کئی فلسطینی رہائشیوں کو گرفتار کر لیا۔
قصرہ میں فوجی گاڑیاں ایک بکتر بند بلڈوزر کے ساتھ تعینات کی گئیں، جبکہ سالم میں فوجیوں نے کئی محلوں اور مرکزی سڑکوں کی تلاشی لی۔
وفا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے طولکرم کے شمال میں واقع علار، صیدا اور قفین قصبوں میں پانچ فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTASNIM NEWS/AFP via Getty Images
ایران کی بسیج فورس کے نئے سربراہ حسین طائب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز ایران کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے اور ملک مکمل امن و امان کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہے۔‘
ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے حال ہی میں حسین طائب کو بسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
ایک روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام نے مقامی طور پر تیار کردہ 20 ڈرون قبضے میں لے لیے ہیں جبکہ اس سلسلے میں چار افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ہے کہ وہ یہ ڈرون سمگل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
عراقی وزارتِ داخلہ اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا گرفتار افراد کا تعلق کسی مسلح گروہ سے ہے یا نہیں۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ بغداد اپنی سکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے اور وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
چند ہفتے قبل سعودی عرب پر حملے ہوئے تھے جن کے بارے میں ریاض کا کہنا تھا کہ وہ عراقی سرزمین سے کیے گئے۔ بعد ازاں سعودی عرب نے اس کے جواب میں عراق میں الحشد الشعبی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان 13 اور 14 اگست کو مصر کا دورہ کریں گے۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس دورے کے دوران ہاکان فیدان ترکی۔مصر مشترکہ منصوبہ بندی گروپ (جے پی جی) کے دوسرے اجلاس میں شرکت کے علاوہ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق اس دورے کے دوران ہاکان فیدان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات متوقع ہے، جبکہ وہ مصر کے دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی مذاکرات کریں گے۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ فیدان ترکی اور مصر کے درمیان فوجی اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں جاری تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ علاقائی مسائل کا حل علاقائی ملکیت اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کے تحت مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق اسی تناظر میں ترک وزیرِ خارجہ اس عزم کا بھی اعادہ کریں گے کہ دوطرفہ سطح پر اور آر فور جیسے کثیرالجہتی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس فورم میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے بعد ہاکان فیدان نے کہا تھا کہ مصر معاہدے میں شامل ممالک کا فطری پارٹنر ہے اور مستقبل میں مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے قصبوں مجدل زون اور منصوری اور ان سے ملحقہ وادیوں میں گھروں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور نذرِ آتش کرنے کی کارروائیاں کی ہیں۔
بی بی سی فارسی نے لبنانی خبر رساں ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گذشتہ رات اسرائیلی جنگی طیاروں نے منصوری پر دو فضائی حملے کیے جبکہ صور شہر سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی فوج نے منصوری کے رہائشیوں کے لیے جبری انخلا کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے حالیہ دورے کے دوران اسرائیلی افواج کی وہاں موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فورسز علاقے میں موجود تمام گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ان گھروں کی منظم مسماری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے ایران نواز یمنی حوثی گروہ کے ترجمان یحییٰ سریع سے منسوب اکاؤنٹ معطل کر دیا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ تقریباً ایک لاکھ 21 ہزار 500 فالوورز رکھنے والے اس اکاؤنٹ کو کیوں بند کیا گیا۔
بی بی سی فارسی اکاؤنٹ کھولنے پر پیغام لکھا آتا ہے کہ ’اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔‘ پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایکس ایسے اکاؤنٹس معطل کر دیتا ہے جو اس کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘
یحییٰ سریع کا اکاؤنٹ یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں حملوں، سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے تسلیم شدہ یمنی حکومت کے خلاف حملوں سے متعلق معلومات فراہم کرتا تھا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر ’خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
ایکس پر جاری ایک بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں قشم جزیرے کے ساحلوں پر تیل کی آلودگی کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ’یہ آلودگی خلیج فارس سے بہہ کر ساحل تک پہنچی، اور ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک غیر ملکی مال بردار جہاز سے پھیل رہی ہے۔ ساحلی علاقوں کے تین مقامات اور سمندر کی سطح کے بعض حصوں پر آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ واقعہ وسیع پیمانے پر پائی جانے والی آلودگی کی صرف ایک نمایاں مثال ہے جس نے گذشتہ چند دہائیوں کے دوران نہ صرف خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ایران کے ساحلی علاقوں میں بھی کھربوں ڈالر کے نقصانات کا سبب بنا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے تصدیق کی تھی کہ ایک آئل ٹینکر سے رسنے والا تیل پھیل کر عمان کے ساحلی علاقوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ خدشہ ہے کہ کئی ہفتوں سے پھیل رہا یہ تیل حالیہ برسوں کے بدترین سمندری ماحولیاتی بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ تیل عمان کے ساحل کی تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) طویل پٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس میں رأس المدرکہ کا علاقہ اور جزیرہ مصیرہ بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا اگر اسی رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ ایبولا کے مہلک ترین پھیلاؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بار کی وبا اپنی موجودہ رفتار سے پھیلتی رہی تو یہ 2014 سے 2016 کے دوران سامنے آنے والی وبا کو ’پیچھے چھوڑ دے گی‘ جن کے نتیجے میں کم از کم 11 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس سال کی ایبولا وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا اور اب تک اس کے کم از کم 4,300 کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ 2,000 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے بدھ کے روز کہا کہ کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار کو روکا جا سکے۔ تاہم عالمی ادارے نے خبردار کیا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وائرس کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا بلکہ یہ محض اس کی منتقلی کو قابو میں لائے جانے کی جانب اشارہ ہو گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس وبا کا باضابطہ اعلان مئی میں کیا گیا تھا، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز اس سے کم از کم تین ماہ پہلے ہو چکا تھا۔
ایبولا وبا کے مرکز کے قریب واقع شہر بونیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے افریقہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد جنابی کا کہنا تھا کہ ’ہم وائرس کا تعاقب کر رہے ہیں، لیکن وائرس ہم سے آگے ہے۔‘
انھوں نے ایسی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس فروری میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور ابتدا میں اسے غلطی سے ملیریا یا ٹائفائیڈ قرار دیا گیا تھا۔
2026 کی یہ وبا ایبولا وائرس کی نایاب بنڈیبوجیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے، جو اس سے پہلے 2007 اور 2012 میں وبا کے پھیلاؤ کا سبب بنی تھی۔
وائرس کی اس قسم کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم شدہ دوا دستیاب ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان میں موجودگی کے متعلق بیان کے بعد امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی اسرائیل پر غیر معمولی تنقید سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل امریکی ثالثی میں طے پائے جانے والے اس معاہدے کی پاسداری کرے گا جس کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا ضروری ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ لبنان کی علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کے دورے کے دوران اسرائیلی افواج کی وہاں موجودگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فورسز علاقے میں موجود تمام گھروں کو مسمار کر رہی ہیں۔
لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ان گھروں کی منظم مسماری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق اسرائیل کو ان علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانا ہوں گی، جبکہ لبنانی فوج کو وہاں تعینات کیا جائے گا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس سے قبل اسرائیلی وزرا کے بیانات اور سیاسی بیانیے میں مزید شدت دیکھنے میں آئی ہے۔