انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے گذشتہ برس جس انتخابی نعرے کے بل پر مقامی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی تھی، وہی نعرہ اب اس جماعت کے اقتدار کے لیے مشکلات پیدا کرتا نظر آ رہا ہے۔ پارٹی کے رکنِ پارلیمان اور معروف شیعہ رہنما آغا روح اللہ نے طویل ناراضی کے بعد جماعت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان کی جماعت آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد کے اسی وعدے سے مکر گئی ہے جس کی بنیاد پر عوام نے اسے ووٹ دیا تھا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے بتایا کہ وہ نومبر میں پارٹی اور پارلیمنٹ کی نشست، دونوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’2019 میں انڈین پارلیمنٹ میں ایک بل کے ذریعے کشمیریوں کو نیم خودمختاری دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو کشمیریوں کی رضامندی کے بغیر اور غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس واحد جماعت ہے جس کا بنیادی سیاسی نظریہ ہی کشمیر کی خودمختاری ہے، اس لیے ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم اپنے آئینی اختیارات کی بحالی کے لیے پیش پیش رہتے، لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد توقع تھی کہ حکومت آئینی خودمختاری کی بحالی کے لیے تگ و دو کرے گی، لیکن پارٹی قیادت اور حکومت نے اپنی تمام تر توجہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرانے پر مرکوز کر دی۔ واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے وقت جموں و کشمیر کا درجہ ایک باقاعدہ ریاست سے گھٹا کر نئی دہلی کے براہِ راست انتظام والی یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا تھا۔
آئینی خودمختاری سے متعلق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے محتاط رویے پر آغا روح اللہ کہتے ہیں کہ ’ظاہر ہے یہ سودا اقتدار میں رہنے کے لیے ہوا ہوگا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس کی وجہ خوف ہے، لالچ ہے یا کچھ اور، لیکن یہ جماعت اپنے بنیادی ایجنڈے سے مکر گئی ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ عوام کے اعتماد کا سودا ہوا ہے۔ یہ سودا کس کے عوض ہوا، یہ قیادت ہی بہتر جانتی ہوگی، مگر میں اس لیے مستعفی ہو رہا ہوں کیونکہ میں اس سودے بازی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔‘
’فاروق عبداللہ کی خواہش پوری کر دی‘
اکتوبر 2024 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت قائم ہونے کے بعد آغا روح اللہ نے آرٹیکل 370 کے معاملے پر پارٹی کی خاموشی اور محتاط رویے پر متعدد بیانات اور انٹرویوز دیے۔ اس کے نتیجے میں انھیں رواں سال پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے ایک اجلاس میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔
سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں آغا روح اللہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’جس طرح آغا صاحب خود کو ایک قد آور لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے پارٹی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، وہ درست راستہ نہیں۔ میں انھیں کہتا ہوں کہ اگر ان میں دم ہے تو استعفیٰ دیں، پارلیمنٹ کی نشست چھوڑیں اور دوبارہ الیکشن لڑیں، پھر دیکھتے ہیں کہ انھیں کون ووٹ دیتا ہے۔‘
فاروق عبداللہ کے اس بیان کے فوراً بعد آغا روح اللہ نے اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’پہلے میں سمجھتا تھا کہ شاید خودمختاری کے مطالبے پر صرف وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا رویہ سرد ہے۔ مجھے امید تھی کہ پارٹی قیادت اس معاملے میں سنجیدہ ہوگی، لیکن جب پارٹی سربراہ نے بھی اسی انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جسے آرٹیکل 370 چاہیے، وہ جا کر تلاش کرے کہ اسے کہاں سے لانا ہے، تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ فاروق عبداللہ کی بہت عزت کرتے ہیں اور ’اسی لیے میں نے استعفے کا فیصلہ کر کے فاروق صاحب کی خواہش پوری کر دی۔‘ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کے خلاف ایک گمراہ کن بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا، ’حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرائی، جس میں آرٹیکل 370 کی بحالی اور جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا پُرزور مطالبہ شامل ہے۔ آغا صاحب ایک سینیئر سیاست دان ہیں، انھیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے تھی۔‘
’قرارداد کو لے کر پورے ملک کو متحرک کرنا تھا‘
آغا روح اللہ تسلیم کرتے ہیں کہ اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے حساس معاملات پر قراردادیں صرف تصویریں کھنچوانے کے لیے منظور نہیں کی جاتیں، ان پر عملدرآمد کے لیے پیش رفت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اسی منظور شدہ قرارداد کو لے کر ملک کی تمام غیر بی جے پی جماعتوں کے پاس جانا چاہیے تھا، اور عوامی رائے کو خودمختاری کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ میں ہماری تعداد نہیں ہے، وہاں اس وقت کچھ نہیں ہو سکتا، لیکن ہم ملک بھر میں رائے عامہ کو متحرک کر کے دباؤ ضرور پیدا کر سکتے تھے۔‘
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آغا روح اللہ اپنے سیاسی نظریات کی تکمیل جماعت کے اندر رہ کر زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے تھے، کیونکہ استعفے کے بعد وہ نیشنل کانفرنس کی واحد اختلافی آواز بن کر رہ جائیں گے۔
مصنف اور تجزیہ نگار پی جی رسول کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر آغا صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہی بات بہت سے کشمیریوں کے دل کی آواز ہے، اور کوئی بھی کشمیری سیاسی جماعت اس موقف کو یکسر غلط نہیں قرار دے سکتی۔ موقف درست ہے، مگر ان کا طریقۂ کار درست نہیں۔‘
ان کے مطابق آغا روح اللہ کو یہی موقف لے کر تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جانا چاہیے تھا اور انھیں اس مطالبے پر متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔
’اگر اس کے نتیجے میں نیشنل کانفرنس انھیں پارٹی سے نکال دیتی تو وہ الگ بات تھی، لیکن پارٹی اور پارلیمنٹ دونوں سے علیحدہ ہو کر وہ اکیلے زیادہ مؤثر کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔‘