پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار
اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کی صوبائی
حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے قبائلی عمائدین نے ثالثی
کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں قبائلی رہنماؤں کے ایک جرگے نے گذشتہ روز
گورنر اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔
صوبے کے تمام قبائلی علاقوں کے
عمائدین اور مشران پر مشتمل اس مشترکہ جرگے کی قیادت شمالی وزیرستان کے بزرگ رہنما
ملک خان مرجان کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ کے لیے چار
اکتوبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ
روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مطالبات کے حل کے لیے لانگ مارچ ضرور ہو گا۔
تقریباً 30 سے 40 افراد پر مشتمل
جرگے کے سربراہ ملک خان مرجان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ موجودہ سیاسی تناؤ کسی
کے مفاد میں نہیں اور اس کے مزید بڑھنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔
پوچھا گیا کہ کیا کسی فریق نے ان سے
ثالثی کرانے کا کہا؟ اس کے جواب میں خان مرجان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔
ان کے مطابق ماضی میں بھی قبائلی
جرگوں نے بڑے تنازعات کے حل میں کردار ادا کیا ہے اور اب بھی قبائلی عمائدین نے
خود فیصلہ کیا کہ وہ تمام متعلقہ افراد اور اداروں سے رابطے کریں گے تاکہ صورتحال
میں موجود کشیدگی کم کی جا سکے۔
ملک خان مرجان نے بتایا کہ گذشتہ روز
ان کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات ہوئی جو
ان کے بقول حوصلہ افزا رہی۔ انھوں نے کہا کہ ملاقات کے بعد گورنر اسلام آباد روانہ
ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد جرگے نے
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ اگر جرگے کو ثالثی کا
کردار ادا کرنا ہے تو اس کے لیے صوبائی حکومت کو جرگے پر اعتماد کرنا ہو گا اور
لانگ مارچ سے متعلق اپنے موقف میں لچک دکھانی ہو گی۔
ملک خان مرجان کے مطابق ملاقات کے
دوران پی ٹی آئی کے صوبائی صدر بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آج
دوبارہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات متوقع ہے، جس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا
جائے گا۔ ان کے بقول ممکن ہے کہ جرگہ اسلام آباد بھی جائے اور وہاں متعلقہ حکام سے
ملاقاتیں کرے۔
انھوں نے کہا کہ جرگہ فریقین کو
کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور آئندہ وفاقی سطح پر بھی اہم
شخصیات سے رابطے کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت اور گورنر کا مؤقف
اس بارے میں صوبائی وزیر اطلاعات اور صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے مختصر جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے وقت لیا گیا ہے۔
گذشتہ روز وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی پریس کانفرنس کے دوران اس بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ تو سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی رہنما ان سے ملنے آئے تھے اور تمام قبائلی رہنما بھی ان کے ساتھ لانگ مارچ میں بھی شریک ہوں گے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جرگے کے بارے میں سوال کا مختصر جواب دیا۔
ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے بھیجے گئے جواب میں انھوں نے کہا:
’میں نے ہمیشہ جرگوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ جب بھی کوئی جرگہ یا وفد گورنر ہاؤس آیا، اسے خوش آمدید کہا گیا۔‘
شوکت یوسفزئی کے خطوط میں لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز
قبائلی جرگے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بھی پارٹی قیادت کو لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
انھوں نے 24 اور 28 ستمبر کو پارٹی رہنما اسد قیصر اور چیئرمین بیرسٹر گوہر کو دو خطوط تحریر کیے۔
دوسرے خط میں شوکت یوسفزئی نے خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت بعض معاملات کو بنیاد بنا کر صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات اور صوبے میں شدت پسندی کی حالیہ لہر کو بھی اس مقصد کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
خط میں شوکت یوسفزئی نے رائے دی کہ ’ملک کے وسیع تر مفاد میں‘ لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنا چاہیے اور ’موجودہ حالات میں ملک کے دفاع کے نعرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘
یہ خط واٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا اور اس کی نقول وزیر اعلیٰ سمیت دیگر رہنماؤں تک بھی پہنچائی گئیں۔
تاہم وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں اس خط سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ انھوں نے یہ خط نہیں پڑھا اور اگر یہ ان کے پاس پہنچ جاتا تو وہ اسے پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے۔