آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے ملاقاتیں، باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں چھ افراد ہلاک

ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ دوسری جانب یمن کے کوسٹ گارڈز کے مطابق آبنائے باب المندب کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

خلاصہ

  • پاکستانی فوج کا پنجگور میں کارروائی کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
  • کار بم دھماکے میں لیبیا کی فوج کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک ہو گئے
  • پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
  • باب المندب کے قریب بحری جہاز پر حملے میں عملے کے پاکستانی رکن سمیت دو افراد ہلاک
  • عمران خان سے ملاقات کے لیے دائر پٹیشنز سماعت کے لیے مقرر کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج مؤخر کرتے ہیں: سلمان اکرم راجہ
  • راولپنڈی میں مال روڈ پر فائرنگ سے سکیورٹی اہلکار زخمی۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق فائرنگ سکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ ٹیم پر کی گئی، جوابی فائرنگ میں حملہ آور ہلاک ہو گیا
  • وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص پاکستان تحریک انصاف کا کارکن تھا۔ تحریک انصاف نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے
  • شام کے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی

لائیو کوریج

  1. یوکرین میں روسی حملے، کم از کم نو افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    یوکرین کے مختلف علاقوں میں رات گئے روسی حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    زاپوریژیا کے گورنر کے مطابق روسی حملوں میں چھ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے۔ گورنر ایوان فیدوروف نے بتایا کہ حملوں میں راکٹ اور گائیڈڈ میزائل استعمال کیے گئے۔

    کیئو کے میئر وٹالی کلِچکو نے دارالحکومت میں دھماکوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ پیر کی رات شہر کو ’بیلسٹک میزائلوں‘ سے کا نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروس کے مطابق ایک گودام میں آگ لگ گئی جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔

    مشرقی علاقے دنیپروپیٹروفسک میں بھی روسی ڈرون اور توپ خانے کے حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکساندر گانژا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر اس کی تصدیق کی۔

    روس اور یوکرین کی جانب سے رات گئے ایک دوسرے پر کیے گئے تازہ حملوں کے بعد یہ نئی تصاویر موصول ہوئی ہیں۔

    کیئو، زاپوریژیا اور دنیپروپیٹروفسک میں روسی حملوں کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔

  2. کولمبیا میں 7.4 شدت کے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 132 تک جا پہنچی

    کولمبیا میں برسوں کے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 132 تک جا پہنچی ہے۔

    حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ کئی افراد اب بھی منہدم عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

    کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق 7.4 شدت کا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر 34 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی گہرائی 103 کلومیٹر تھی اور اس کے جھٹکے ملک کے مغربی حصے میں سیکڑوں میل دور تک محسوس کیے گئے۔

    زلزلے سے سب سے زیادہ ہلاکتیں کولمبیا کے ’کافی‘ پیدا کرنے والے علاقے کے شہر پریرا میں ہوئیں، جبکہ آس پاس کے شہروں اور ویلے ڈیل کاؤکا کے علاقے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔

    زلزلے کا مرکز صوبہ چوکو کے گاؤں سان خوزے دیل پالمر کے قریب تھا۔ تاہم مقامی میئر لیون فابیو مارین مونکادا نے کہا کہ ’سڑکیں متاثر ہونے کے باوجود خوش قسمتی سے علاقے میں کوئی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔‘

    کولمبیا کی ایسوسی ایشن آف کیپیٹل سٹیز نے پیر کو جاری کردہ تازہ بیان میں بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں 480 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    زلزلے کے مرکز سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع شہر پریرا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔

    بی بی سی سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں شہر کے مرکزی چوک ’پلازا بولیوار‘ میں کم از کم ایک عمارت کو منہدم ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ چوک میں ملبہ اور گرد و غبار پھیل گیا، جہاں اس وقت بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

    مقامی حکام کے مطابق پریرا کے میٹروپولیٹن علاقے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 65 عمارتیں منہدم ہوئی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ان میں سے 15 عمارتوں کے ملبے تلے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

    شہر کے بعض علاقوں میں منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

    پریرا سے تقریباً 160 کلومیٹر جنوب اور زلزلے کے مرکز سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع شہر کالی میں بھی 32 عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  3. ترکی کی پارلیمنٹ نے ’کالعدم کردستان ورکرز پارٹی‘ جنگجوؤں کے لیے سزا میں نرمی کے قانون کی منظوری دے دی

    ترکی کی پارلیمنٹ نے 10 اگست کو ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت کالعدم کُرد گروپ ’کردستان ورکرز پارٹی‘ یعنی ’پی کے کے‘ کے متعدد سابق جنگجوؤں کو جزوی معافی دی جائے گی اور ان کی قید کی سزائیں معطل کی جائیں گی۔

    یہ اقدام گروپ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کا عمل جاری رکھنے کے بدلے کیا گیا ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق انقرہ حکومت اور پی کے کے کے درمیان جاری امن عمل کے تحت پیش کیے گئے اس ’فریم ورک لا‘ کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 88 نے مخالفت کی اور چھ ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    صرف قوم پرست اپوزیشن جماعت ’گڈ پارٹی‘ کے ارکان نے اس بل کی بھرپور مخالفت کی۔

    قانون کے تحت زیادہ تر جرائم کے حوالے سے تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں معطل کر دی جائیں گی، تاہم پی کے کے کی سرگرمیوں کے دوران کیے گئے قتل کے جرائم اس قانون سے مستثنیٰ ہوں گے۔

    اس کے علاوہ سنہ 2005 سے پہلے کیے گئے بعض ایسے جرائم بھی قانون کے دائرے سے باہر رہیں گے جن کی سزا عمر قید ہے۔

    اس کا مطلب ہے کہ جیل میں قید کردستان ورکرز پارٹی کے رہنما عبداللہ اوجلان اور شمالی عراق میں موجود پی کے کے کے بانی و اعلیٰ سطح کے ارکان اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

    کردستان ورکرز پارٹی نے 40 سال سے زائد عرصے تک ترک ریاست کے خلاف مسلح شورش جاری رکھی۔ عبداللہ اوجلان کی اپیل کے بعد تنظیم نے سنہ 2025 میں اپنی تحلیل کا اعلان کیا اور ہتھیار ڈالنے کے عمل کے تحت ایک علامتی تقریب بھی منعقد کی۔

    حکومت نواز میڈیا نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کردستان ورکرز پارٹی کے ہتھیار ڈالنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

    تاہم اپوزیشن نواز میڈیا نے اس حوالے سے زیادہ محتاط اور شکوک پر مبنی مؤقف اختیار کیا ہے۔ بعض اداروں نے اسے ’دہشت گردی کو رعایتیں دینے‘ کے مترادف قرار دیا اور سوال اٹھایا ہے کہ امن عمل کو حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟

    کردستان ورکرز پارٹی کیا ہے اور کُرد علیحدگی پسند ترکی کے خلاف کیوں لڑ رہے ہیں؟

    پی کے کے تقریباً چار دہائیوں سے ترکی کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ بائیں بازو کے نظریات کے حامی گروہ کا سنگِ بنیاد 1970 کی دہائی میں رکھا گیا تھا اور اس نے ترکی کے اندر کُردوں کے لیے ایک آزاد ریاست بنانے کے مقصد سے حکومت کے خلاف سنہ 1984 میں مسلح جدوجہد شروع کی تھی۔

    کُردوں کی اکثریت جنوب مشرقی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور مغربی آرمینیا میں آباد ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں میں ڈھائی سے تین کروڑ کرُد آباد ہیں۔ انھیں عربوں، فارسیوں اور ترکوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی چوتھی بڑی قوم سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے پاس اپنا کوئی ملک نہیں ہے۔

    گذشتہ 80 برسوں میں کُرد متعدد بار اپنے لیے ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کی کوششیں کر چکے ہیں لیکن انھیں کبھی کامیابی نہیں ملی۔

    کُرد ترکی کی آبادی کا 15 سے 20 فیصد حصہ ہیں۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں کے دوران ہونے بغاوتوں کے سبب ترکی میں کردوں جیسے نام رکھنے، ان کے لباس پہننے اور یہاں تک کے ان کی زبان بولنے تک پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت کردوں کو 'پہاڑی تُرک' کہا جاتا تھا۔

    سنہ 1978 میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے عبداللہ اوجلان نے پی کے کے قائم کی تھی۔ سنہ 1984 میں اس تنظیم نے باقاعدہ مسلح لڑائی کا اعلان کردیا، تب سے اب تک اس تنازع میں ترکی، شام اور عراق کے کچھ حصوں میں 40 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

    تاہم 1990 کی دہائی میں پی کے کے نے کُردوں کے لیے الگ ریاست کے مطالبے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

    2016 میں پی کے کے کے عسکری ونگ کے سربراہ جمیل بایک نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 'ہم ترکی سے الگ ہو کر کوئی ریاست نہیں کام کرنا چاہتے۔ ہم اس کی سرحدوں میں اپنی زمین پر آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔'

    دوسری جانب ترکی کا مؤقف ہے کہ پی کے کے 'ترکی میں ایک علیحدہ ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔'

    واضح رہے پی کے کے کو ترکی، امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک نے کالعدم تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

  4. آبنائے ہرمز کی صورتحال برقرار، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز کی صورتحال میں بہتری نہ آنے کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    یہ اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی شرائط مسترد کیے جانے کے بعد ہوا۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 82.45 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ دونوں اقسام کے تیل کی قیمتوں میں پیر کو تقریباً پانچ فیصد اضافہ ہوا تھا، جو گزشتہ 11 دنوں میں بلند ترین سطح ہے۔

    مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال سے یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی جنگ سے پہلے کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔

  5. غزہ میں اسرائیلی حملوں سے انسانی امداد کی ضرورت بڑھ رہی ہے: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے جاری حملوں کے باعث فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور انھیں انسانی امداد کی مزید ضرورت پڑ رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’جمعے سے اسرائیلی فائرنگ، گولہ باری اور بحری حملوں کے نتیجے میں کئی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔‘

    اقوام متحدہ نے زور دیا کہ ’بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘

    ادارے نے بتایا کہ ’غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک اس کے ماہرین نے ایک ہزار سے زائد گولہ بارود اور دیگر جنگی مواد کی نشاندہی کی ہے جو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

    رپورٹ میں غزہ میں ضروری سامان اور خصوصی آلات کی رسائی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ وہاں اہم انسانی خدمات کو مزید وسعت دی جا سکے۔

  6. امریکہ نے سفارت کاری کے بجائے پابندیوں کا راستہ اپنا لیا ہے: اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’واشنگٹن نے سفارت کاری اور مذاکرات کے بجائے پابندیوں کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔‘

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرِ خزانہ کے بیان کے جواب میں یہ بات کہی۔ امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا تھا کہ ’امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ’جب بھی امریکہ سفارت کاری کے ذریعے کوئی پیش رفت نہیں کر پاتا تو وہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’چونکہ پابندیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، اس لیے امریکہ ان میں مزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔‘

  7. حوثیوں کا ’المخا‘ بندرگاہ پر دوبارہ ’سعودی افواج کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: تاریخی المخا شہر اور بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    یمنی حکومت سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا پر حملہ کیا ہے۔

    یمنی فوج نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حوثیوں نے شہر پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔‘

    یمنی فوج کے مطابق ’حوثیوں نے شہر کی بندرگاہ پر موجود اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔‘

    حوثیوں المخا پر ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والے حملوں کے بعد یمنی بندرگاہ پر موجود یہ شہر ’المخا‘ ایک متربہ پھر سے خبروں میں ہے۔

    چند ماہ قبل یمنی حکومت نے اس بندرگاہ کی ترقی اور جہازوں کے لنگر انداز ہونے اور تجارتی سامان کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کم ہونے والے اس کے تجارتی کردار کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔

    بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ دو فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ’المخا‘ پر میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم آٹھ فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ’حملے میں المخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا ہے کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘

    حوثیوں کی جانب سے المخا میں جن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اُن کی جانب سے جنھیں سعودی افواج کے ٹھکانے کہا جا رہا ہے ان کی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    المخا شہر اور بندرگاہ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    المخا کی بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ نامی شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

    یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔

    المخا شہر کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار سے شروع ہوئی۔ 16ویں صدی سے یہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگا، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔

    17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ ’المخا‘ کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی ’کافی‘ کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس ’کافی‘ اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں ’موکا‘ کے نام سے معروف ہے۔

    بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف ’کافی‘ تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔

    المخا کی تجارتی اہمیت کیسے کم ہوئی؟

    یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں ’کافی‘ کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔

    ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعاء اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔

    بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔ بندرگاہ میں تقریباً 430 میٹر مجموعی لمبائی پر گودام، سٹوریج یارڈز، ایندھن لانے والے ٹینکروں کے لیے ایک پلیٹ فارم اور مویشیوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت موجود ہے۔

    بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامن رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔

    اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور بحری خدمات کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔

    یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں ہے، جن کی قیادت طارق صالح کرتے ہیں۔ طارق صالح صدارتی قیادت کونسل کے رکن بھی ہیں۔

    ستمبر سنہ 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس وقت بندرگاہ پر درآمدات کی دوبارہ واپسی کا عمل شروع ہونے کے قریب تھا۔ تاہم بندرگاہ پر حملے میں امدادی تنصیبات، گوداموں اور ایندھن کے ایک ٹینک کو شدید نوعیت کا نقصان پہنچا تھا۔

    بندرگاہ کی توسیع کا منصوبہ

    دسمبر سنہ 2025 میں یمنی حکومت نے المخا بندرگاہ کی ترقی کے لیے تقریباً 138.9 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

    منصوبے میں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی جگہ یعنی گھاٹ کی تعمیر جو کہ 280 میٹر طویل اور 12 میٹر گہری تھی، کنٹینر یارڈ، گوداموں اور اناج و سیمنٹ ذخیرہ کرنے کے لیے مناصب مقام کی تعمیر شامل ہے۔

    حکومت کا مقصد منصوبے کی تکمیل کے بعد بندرگاہ کی سالانہ گنجائش بڑھا کر 22 لاکھ 75 ہزار ٹن اور سالانہ بنیادوں پر تقریباً 195 بحری جہازوں کی آمد و رفت تک پہنچانا ہے۔

  8. ٹرمپ کا غزہ امن کونسل کے منصوبے کو مسترد کرنے پر نیتن یاہو کو جواب دینے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’وہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کی جانب سے امن کونسل کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کیے جانے پر جلد جواب دیں گے۔‘

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ نیتن یاہو کے موقف پر اپنا ردِعمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا ’میں اپنا جواب وہاں پوسٹ کروں گا۔ میرے پاس ایک جواب ہے، ایک اچھا جواب، اور میں اسے وہاں شائع کر دوں گا۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ان کے اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات اب بھی بہت اچھے ہیں۔‘

  9. آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی روکنے سے ہی ممکن ہے: عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کے حملے اور بحری ناکہ بندی روکنا ضروری ہے۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈی فول سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کی بحالی کے لیے امریکی حملوں اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہے۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے جرمن ہم منصب کو عمان کے ساتھ جاری مشاورت سے بھی آگاہ کیا۔ اُن کے مطابق عمان کے ساتھ اس مشاروت کا مقصد آبنائے ہرمز سے محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک محفوظ راستہ متعین کرنا ہے۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی بدامنی کی واحد وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی جارحیت ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’عالمی برادری کو آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی اور معاشی اثرات پر امریکی حکمران طبقے کو جواب دہ ٹھہرانا چاہیے۔‘

    ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں اور غیر قانونی مداخلت کو روکنا ضروری ہے، جن میں بحری ناکہ بندی اور امریکہ کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے متعلق کیے گئے وعدوں کی دیگر خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔‘

  10. امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں اور اس وقت اس اہم آبی گزرگاہ کا مکمل کنٹرول امریکی بحریہ کے پاس ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اس وقت آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے والی واحد طاقت امریکی بحریہ ہے۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ’امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جو ان کے بقول مکمل اور ناقابلِ تسخیر ہے، بالکل فولادی دیوار کی طرح۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم صرف ان لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں جنھیں ہم اجازت دینا چاہتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’صورتحال کچھ پیچیدہ ضرور ہے کیونکہ بعض اوقات آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھا دی جاتی ہیں، تاہم امریکی فوج ان سرنگوں کا سراغ لگا لیتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’ہم نے پوری آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔‘

  11. ٹرمپ کا ایران سے امریکی فوجیوں اور ایرانی مظاہرین کی ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے امریکہ سے معاوضے کے مطالبے کے جواب میں کہا ہے کہ ’اب وہ بھی ایران سے امریکی فوجیوں اور ایرانی مظاہرین کی ہلاکتوں پر ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ انھوں نے دیکھا ہے کہ ’ایرانی حکام گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ہونے والے فوجی تنازع میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ مذاکرات یا ملاقاتوں کے دوران اس معاملے کو کبھی زیرِِ بحث نہیں لایا گیا۔‘

    دو روز قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سابق سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا تھا کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ ان مطالبات میں امریکہ کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ایران سے ان تمام افراد کے قتل یا شدید زخمی ہونے پر معاوضہ طلب کرنا ایک ’دلچسپ خیال‘ ہے جو سڑک کنارے نصب بموں اور دیگر حملوں میں مارے گئے یا زخمی ہوئے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ حملے ماضی میں جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں کیے گئے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس میں امریکی بحری جہاز ’یو ایس ایس کول‘ پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ میدانِ جنگ میں مارے جانے والے ہزاروں دیگر افراد کے خاندان بھی شامل ہیں۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھایا جائے اور اس پر معاوضے کا مطالبہ کیا جائے۔‘

    ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کو گزشتہ 50 برس کے دوران ہلاک کیے گئے ’لاکھوں بے گناہ مظاہرین‘ کے خاندانوں کو بھی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اپنی پہلی پوسٹ کے چند منٹ بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور پیغام میں کہا کہ ’ایران کو لبنان، شام، یمن اور غزہ کے عوام کو پہنچنے والے نقصانات اور جانی نقصان کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

  12. مغربی کولمبیا میں شدید زلزلہ، ہلاکتیں 111 ہو گئیں، درجنوں زخمی

    مغربی کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 111 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.4 شدت کا زلزلہ پیر کے روز 07:34 بجے کولمبیا کے صوبہ چوکو میں 107 کلومیٹر (66 میل) گہرائی میں آیا۔

    زلزلے کے جھٹکے نہ صرف کولمبیا کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے بلکہ پڑوسی ممالک وینیزویلا، ایکواڈور اور پاناما میں بھی لوگوں نے بھی لرزش محسوس کی۔

    زلزلے کے باعث متعدد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، جبکہ کئی افراد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

    یہ تباہ کن زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دو ماہ سے بھی کم عرصہ قبل وینیزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے ملک کے کئی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جن کے نتیجے میں 6,100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    کولمیا کے نائب صدر خوسے مانوئل ریستریپو ابوندانو نے کہا ہے کہ ان کی حکومت زلزلے سے متاثرہ تمام علاقوں اور برادریوں کی مدد کے لیے ’انتھک محنت‘ کر رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اس سانحے سے متاثر ہونے والی ہر کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے اور امدادی سرگرمیوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نائب صدر نے ان ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں کولمبیا کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے ملنے والی امداد اور حمایت متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    خوسے مانوئل ریستریپو ابوندانو نے کہا، ’ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک یہ امداد ہر اُس خاندان تک نہیں پہنچ جاتی جسے اس کی ضرورت ہے اور جب تک یہ متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آج پوری دنیا کولمبیا کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھا رہی ہے‘، جو اس مشکل گھڑی میں عالمی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔

  13. سندھ کی وحدت اور وجود کے حق میں بات کرنے پر ایاز پلیجو کو نوٹس دیا گیا: قومی عوامی تحریک, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    کراچی سندھ کی قومپرست جماعت قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو پیر کی دوپہر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے دفتر میں پیش ہوئے، این سی سی آئی نے انھں نے مبینہ ’ریاست مخالف‘ سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پوسٹس کی تحقیقات کے سلسلے میں طلب کیا تھا۔

    ایاز پلیجو جلوس کے ساتھ گلستان جوہر میں واقعے این سی سی آئی کے دفتر پہنچے اس جلوس میں ان کے ہمراہ سندھ کی دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں اور وکلا برداری بھی ہمراہ تھی۔

    قومی عوامی تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’سندھ کی وحدت اور وجود کے حق میں بات کرنے، سندھ کو تقسیم کر کے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی سازش کے خلاف بھرپور تاریخی آواز اٹھانے، پانی پر ڈاکے کے خلاف جدوجہد کرنے پر حکومت کے حکم پر این سی سی نے ایاز پلیجو کو نوٹس دیا ہے۔‘

    ایاز پلیجو نے پیشی کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انھیں اچھی چائے پلائی گئی اور بسکٹ کھلائے گئے، انھیں آگاہ کیا گیا کہ سوال نامہ ڈاک میں بھیجیں گے اور وہ اس کا جواب ڈاک میں بھیج دیں۔

    این سی سی آئی کے دفتر کے باہر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ سندھ سے پیار کرتے ہیں۔ ’سندھیوں کو پورے جہاں سے پیار ہے لیکن دوسرے کی ماں کی عزت ہوتی ہے لیکن اپنی ماں کو تکلیف میں دیکھ کر کونسا بیٹا خاموش بیٹھے گا لہذا سندھ ہماری ماں ہے۔‘

    ایاز کے مطابق انھوں نے این سی سی آئی حکام کو بتایا کہ اس وقت بھی کئی ایسے اضلاع ہیں جہاں بغیر محافظوں کے منتخب نمائندے نہیں جاسکتے ہیں۔ ’اگر ڈویزنل سطح پر صوبے ناؤں گے تو پھر ایسے کئی صوبے ہوں گے جہاں لوگوں کی نقل و حرکت نہیں ہوگی پھر کہیں گے کہ فلاں صوبے ہیں جو فلاں کے زیر انتظام ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کراچی شہر کو صوبہ بناتے ہیں کل اسمبلی آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہم اس ملک کے ساتھ نہیں رہتے تو پھر پوری دنیا ان کی بات مانیں گی کہ منتخب نمائندوں نے فیصلہ دیا ہے اس لیے ایسے لوگوں کو طاقتور نہ بناؤں ماضی میں بھی تجربات کیے ہیں جب بوریوں میں لاشیں ملتی تھیں۔‘

    ایاز پلیجو کے علاوہ جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض علی چانڈیو کو بھی این سی سی آئی نے نوٹس جاری کیا تھا تاہم انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ نہ تو کسی ایجنسی کے سامنے پیش ہوں گے اور نہ ہی کسی پولیس سٹیشن جائیں گے بلکہ رواں ماہ وطن واپسی پر گرفتاری دینے کے لیے تیار ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں صوبوں کی تقسیم کرکے مزید انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز اور ڈی جی آئی ایس آر کی جانب سے اس کی تائید کے خلاف سندھ میں قوم پرست جماعتوں کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے، اس کے علاوہ سندھ کے ادیبوں اور شاعروں کی جانب سے بھی احتجاجی کیا گیا۔

    سندھی ادبی سنگت کی جانب سے اتوار کو پوری سندھ میں احتجاج کا اعلان کیا گیا، جس میں کراچی، حیدرآباد، ٹنڈو محمد خان، شکارپور، نصیر آباد، پنو عاقل، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، خیرپور، گھوٹکی سمیت متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور سندھ کو ناقابل تقیسم قرار دیا گیا۔

    قوم پرست جماعتوں کے اتحاد سندھ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں 22 اگست کو حیدرآباد میں احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا گیا۔

    جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین نیاز کالانی کا کہنا ہے کہ ’سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا، سندھ کی وحدت کے خلاف کسی کی سازش اور زبان برداشت نہیں کی جائیگی پھر چاہے ملک کا کوئی بھی ادارہ کیوں نہ ہو۔‘

    خیرپور میں ڈاکٹر نیاز کالانی کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا وہ وہاں جئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے، 24 گھنٹے کے بعد انھیں رہا کیا گیا۔

  14. ایران کی فوجی قیادت میں اعلیٰ سطح پر تقرریوں کے احکامات جاری

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے احکامات کے مطابق، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر علی عبداللہی کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ عبدالرحیم موسوی کی جگہ لیں گے، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس حکم کے مطابق جنرل عبداللہی سے کیے جانے والے اہم ترین مطالبات میں ’مسلح افواج کو خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز میں ضم کرنا‘ شامل ہے۔

    ایک اور حکم کے تحت کیومرث حیدری کو مسلح افواج کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے نائب کمانڈر تھے۔

    ایک اور حکم نامے میں احمد وحیدی کو پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ سابق رہنما علی خامنہ ای نے جنوری میں احمد وحیدی کو اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔

    اس کے علاوہ مصطفیٰ ایزدی کو پاسدارانِ انقلاب کے نائب سربراہ کے عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔

    مصطفیٰ طائب کو بھی بسیج کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ غلام رضا سلیمانی کی جگہ لیں گے، جو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ مصطفیٰ طائب اس سے قبل بھی ایک مدت تک بسیج کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

  15. کشمیر میں نئی حکومت بننے کے بعد مہاجرین کی نشستوں پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نئی حکومت بننے کے بعد مہاجرین کی نشستوں پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق شہباز شریف نے یہ گفتگو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کی۔

    واضح رہے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔

    اس مطالبے کو لے کر احتجاج بھی کیا گیا جس کی وجہ سے حالات میں کشیدگی بھی آئی۔

    اے پی پی کے مطابق شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بعض عناصر نے ’جان بوجھ کر حالات خراب کرنے کی کوشش کی۔‘

    اے پی پی نے رپورٹ کیا ہے کہ شہباز شریف نے کہا: ’تجویز دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے انتخابات کے بعد نو منتخب اسمبلی میں اپنا مقدمہ لے کر آئیں، جو اکثریت سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا اسے قبول کیا جائے گا۔‘

    وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہا کہ ’تمام باتیں طے ہو گئی تھیں لیکن وہ (کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) اڑے رہے، بے جا ضد سے معاملات خراب ہو گئے۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے اور ’مذاکرات کا سلسلہ نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا۔‘

    ان کے مطابق جو افراد بھی ’امن، تحمل اور برداشت کے ساتھ معاملات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں، نئی حکومت انھیں یہ موقع فراہم کرے گی۔‘

  16. کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ، عمارتیں منہدم، کم از کم 26 افراد ہلاک

    کولمبیا کے مغربی علاقے میں پیر کو آنے والے 7.4 شدت کے زلزلے سے کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئی ہیں اور کم از کم 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز چوکو خطے میں موجود سان ہوزے ڈیل پالمار تھا، جو کالی اور میڈیلین شہروں کے درمیان واقع ہے، جبکہ اس کی گہرائی 82 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کالی شہر کے میئر الیجاندرو ایڈر نے کہا ہے کہ کم از کم 20 عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور متعدد افراد ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ کوئبدو اور پریرا شہروں میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    زلزلے کے جھٹکے ملک بھر کے کئی شہروں سمیت پڑوسی ملک وینزویلا میں بھی محسوس کیے گئے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے اور بعض کے منہدم ہونے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔

    حکام نقصانات کے حجم اور ممکنہ آفٹر شاکس کے خطرے کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے پیش نظر کئی شہروں میں عمارتیں خالی کرا لی گئی ہیں۔

    ملک بھر کے چھ ہوائی اڈوں پر بھی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

  17. مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ حالیہ ملاقات سات گھنٹے تک جاری رہی: ایرانی صدر پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں انھوں نے تقریباً سات گھنٹے تک ملک کے موجودہ امور پر گفتگو کی۔

    ایران کے صدر نے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی سے گفتگو میں کہا کہ ’عوام کی معاشی صورتحال، روزگار، رہائش، پابندیاں، حکومت اور عوام کی جانب سے استقامت کا طریقۂ کار، اور اتحاد و یکجہتی کا تحفظ‘ اس ملاقات کے اہم ترین موضوعات تھے۔

    پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ اس ملاقات میں رہبرِ اعلیٰ نے ’اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ‘ پر زور دیا اور خبردار کیا کہ ’دشمن کا پورا منصوبہ اختلافات اور تفرقہ پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند تھے۔‘

    اس ملاقات کی خبر سب سے پہلے رہبرِ اعلیٰ کی سرکاری ویب سائٹ نے شائع کی تھی۔

    رہبری کے منصب تک پہنچنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی کوئی آواز یا تصویر جاری نہیں کی گئی اور مسعود پزشکیان کے علاوہ کسی اور سرکاری عہدے دار نے ان سے بالمشافہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا ہے۔

    ایرانی صدر نے پہلی بار چھ مئی کو کہا تھا کہ ان کی مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ڈھائی گھنٹے طویل ملاقات ہوئی تھی۔

  18. اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر گفتگو

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آج ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اہم خد و خال بھی ایران کے وزیر خارجہ سے شیئر کیے۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عباس عراقچی سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے مکہ معاہدے کے ’ان مقاصد کی وضاحت کی جو سٹریٹیجک تعاون کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن و سلامتی میں کردار ادا کرنے سے متعلق ہیں۔‘

    بیان کے مطابق معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کرنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں خاص طور پر خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں پر توجہ مرکوز رہی۔‘

  19. انڈیا: امتحانی اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والوں پر پولیس کا تشدد, دل نواز پاشا، بی بی سی ہندی، رانچی اور اناہیتا سچدیو، بی بی سی نیوز، دہلی

    انڈیا کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں پولیس نے بھرتیوں کے امتحانات میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا۔

    ہزاروں طلبہ، ملازمت کے امیدوار اور رضاکار اپنے احتجاج کو ریکارڈ کرانے کے لیے ریاستی دار الحکومت رانچی میں اسمبلی کی عمارت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بی بی سی نے ایسے بعض افراد کو دیکھا ہے جو زخمی ہوئے ہیں، تاہم زخمیوں کی سرکاری تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔

    مظاہرین دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جھارکھنڈ کے سرکاری امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق پیر کے روز بہت سے مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    رانچی شہر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پارس رانا نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ زیادہ تر مظاہرین پُر امن تھے، تاہم انھوں نے ایک چھوٹے گروہ پر رکاوٹیں توڑنے اور پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’تقریباً 90 فیصد طلبہ پُرامن ہیں، لیکن کچھ ایسے ہیں جو اپنے نمائندوں کی بھی بات نہیں سن رہے۔‘

    رانا نے کہا کہ چونکہ مظاہرین طلبہ تھے، اس لیے پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ’بہت کم وقت کے لیے کم سے کم طاقت‘ استعمال کی۔ انھوں نے طلبہ سے پُر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات حکومت تک پہنچ رہے ہیں۔

    یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل امتحانی پرچے لیک ہونے کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے احتجاج کے دوران ہزاروں نوجوان انڈین طلبہ نے دہلی میں پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔

    انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، جو ایک سیاسی جماعت نہیں ہے، نے 25 جولائی کو پانچ ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج اس وقت ختم کیا جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔

    سی جے پی کو ملک کی مختلف ریاستوں میں موجود طلبہ کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

    جھارکھنڈ میں مظاہرین 25 جولائی سے رانچی کے ایک سٹیڈیم میں جمع ہیں۔ ان میں سے بعض کھلے آسمان تلے رات گزار رہے ہیں جبکہ کئی افراد بھوک ہڑتال بھی کر چکے ہیں۔

    حکومت کے ساتھ متعدد ادوار کی بات چیت اور کئی مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔

    غصے کی فوری وجہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کی جانب سے اپریل میں منعقد کیا جانے والا ابتدائی سول سروسز امتحان ہے۔

    جولائی میں نتائج کے اعلان کے بعد امیدواروں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی لیک شدہ جوابی شیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض کامیاب امیدواروں نے توقع سے کہیں کم سوالات کے جواب دیے تھے۔

    اس سے یہ شبہات پیدا ہوئے کہ نتائج میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

    ریاستی حکومت نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انھیں انصاف ملے گا۔ امتحان سے متعلق الزامات کی تحقیقات جھارکھنڈ کا کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کر رہا ہے۔ ایک درجن سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    تفتیش کار ایک نجی کمپنی کے کردار کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جس نے امتحانی عمل کے بعض حصوں میں اپنی خدمات انجام دی تھیں، کیونکہ امیدواروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس کمپنی کا انتخاب کس طرح کیا گیا۔

    اتوار کو مظاہرین سے مذاکرات کے بعد حکومت نے متنازع امتحان کے ساتھ مزید دو امتحانات بھی منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔ اطلاعات کے مطابق جے پی ایس سی کے تین ارکان نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اس سے پہلے جے پی ایس سی کے چیئرمین ایل خیانگتے بھی 22 جولائی کو مستعفی ہو چکے ہیں۔ تحقیقات کے دوران ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور پیر کے روز انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

    تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کئی مطالبات اب بھی پورے نہیں ہوئے۔ ان میں سب سے اہم مطالبہ یہ ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات انڈیا کے مرکزی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے کرائی جائیں۔

    جھارکھنڈ میں اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مظاہرین کی حمایت کی ہے، احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، معاملہ ریاستی اسمبلی میں اٹھایا ہے اور وفاقی سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس، جو ریاستی حکومت کی اتحادی ہے لیکن قومی سطح پر بی جے پی کی حریف سمجھی جاتی ہے، نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

  20. عمران خان کی صحت خراب ہے، اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ملاقات کے لیے کل سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیں گے: پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پارٹی قائد عمران خان کی صحت خراب ہے اور ان کی اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملاقات کرائی جائے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کے اہل خانہ کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں بہترین ہسپتال سے ان کا علاج کرایا جائے۔‘

    پیر کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ مطالبہ نہ مانا گیا تو پاکستان بھر سے تحریک انصاف کے اراکینِ پارلیمنٹ کل سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان عمران خان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ان سے ملاقات کے لیے حکم جاری کریں۔‘

    سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ اگر یہ ملاقات کرا دی جاتی ہے تو ’پاکستان تحریک انصاف کی مکمل قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ وہ (ملاقات کے بعد) باہر آ کر کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر منگل کے دن ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کو تمام اراکین پارلیمنٹ اڈیالہ جیل جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اُس روز بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے پاکستان کے کئی علاقوں میں احتجاج شروع کر دیا جائے گا۔

    ان کے الفاظ تھے: ’پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنا دیا جائے گا۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو بھی اسلام آباد جانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’27 ستمبر کا لانگ مارچ اپنی جگہ پر موجود ہے‘ اور اس دن ’پورے پاکستان کے لوگ نکلیں گے، پھر کوئی بھی صورتحال کو سنبھال نہیں پائے گا۔‘