براہ راست امریکی مداخلت نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں کہا کہ ایسے میں جب اسلام آباد کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے چند ہفتے ہی گزرے ہیں، امریکہ نے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں سیکورٹی اور بحری انتظامات کو نافذ کرنے کے عمل میں امریکہ کی براہ راست مداخلت اور بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ نے ایک بار پھر دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں سے ایک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے معمول کے بہاؤ میں خلل ڈالا ہے۔‘
اجلاس میں اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں، ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس ملک پر کسی بھی حملے میں ملوث فریقوں کی ’بین الاقوامی ذمہ داری‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، ’جائز دفاع کے حق کے فریم ورک کے اندر، اس ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کی اصل کو اپنی مسلح افواج کے جائز ہدف کے طور پر سمجھے گا۔‘