آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ کے ممکنہ ’حملے کا خطرہ‘: کینیڈا اپنے ہمسایہ ملک سے جنگ کی تیاری کیوں کر رہا ہے؟
- مصنف, نادین یوسف اور رابن لیونسن کنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے گذشتہ ہفتے اعتراف کیا کہ انھوں نے ایک ایسی صورحال یا منظرنامے کے لیے بھی پیشگی تیاری شروع کی ہے جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا، یعنی امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر حملہ۔
مارک کارنی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اگرچہ اس خطرے کا امکان بہت کم اور انتہائی غیر متوقع ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات جس طرح نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر تمام ممکنہ صورتِ حال پر غور کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف خطرات کے انتظام کا حصہ ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ عالمی محصولات اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی بار بار ظاہر کی جانے والی خواہش کے بعد کینیڈا نے امریکی حملے کے ممکنہ منظرنامے پر فوجی مشقوں اور منصوبہ بندی کے ذریعے غور کیا ہے۔
تاہم 2025 میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اس بات کا ’انتہائی کم امکان‘ ہے کہ امریکہ کبھی کینیڈا کے خلاف طاقت استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے بجائے وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اقتصادی دباؤ جاری رکھیں گے۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے عظیم عوام کے تحفظ کے لیے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ کام کیا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والے فوجی ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ کینیڈا پر امریکی حملے کا امکان بہت کم ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک دفاع کے شعبے میں کئی سطحوں پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
تاہم یہ معاملہ واضح طور پر کینیڈین عوام کے ذہنوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنوری میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیے جانے کے بعد لیجر نامی ادارے کے ایک سروے میں 30 فیصد سے زیادہ کینیڈین شہریوں نے کہا تھا کہ انھیں کینیڈا پر امریکی حملے کا امکان نظر آتا ہے۔
امریکی حملہ کیوں ممکن نہیں؟
کینیڈین رائل ایئر فورس کے سابق افسر لیفٹیننٹ جنرل کرسٹوفر کوٹس کے مطابق کینیڈا اور امریکہ کے درمیان جنگ انتہائی پیچیدہ ہوگی اور اس کا تصور کرنا بھی تقریباً مشکل ہے۔ وہ 34 سال تک فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے اپنے پورے کیریئر کے دوران فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا، لیکن ہم نے کبھی اس امکان پر غور نہیں کیا کہ امریکی سرزمین سے کینیڈا پر فوجی حملہ ہو سکتا ہے۔‘
نیٹو کے مشنز میں خدمات انجام دینے والے کرسٹوفر کوٹس نے کہا کہ ’کینیڈا اور امریکہ دفاع کے کئی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔‘
دونوں ممالک شمالی بحرِ اوقیانوس کے دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ہیں، جس کے تحت کسی رکن ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں دوسرے رکن ممالک اس کے دفاع کے پابند ہیں۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک نارتھ امریکن ایرو سپیس ڈیفنس کمانڈ کے تحت آرکٹک کے دفاع کے لیے مشترکہ مشنز بھی انجام دیتے ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات بھی شیئر کرتے ہیں۔
کرسٹوفر کوٹس کے مطابق ’ان حالات میں اگر امریکہ کبھی کینیڈا پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا بھی ہے تو اس کا آغاز براہِ راست فوجی کارروائی سے ہونے کے بجائے زیادہ خاموش اور غیر محسوس طریقوں سے ہونے کا امکان ہے، جن میں سائبر جنگ بھی شامل ہے۔‘
کینیڈا اور امریکہ ہمیشہ ایک دوسرے کے بہترین دوست نہیں رہے
دوسری عالمی جنگ کے بعد 20ویں صدی کے دوسرے نصف میں کینیڈا اور امریکہ فطری اتحادی بن گئے اور وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے اقتصادی، عسکری اور ثقافتی تعلقات انتہائی گہرے ہوگئے۔
لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔
کینیڈین وار میوزیم سے وابستہ محقق ٹم فوران کے مطابق 18ویں اور 19ویں صدی میں امریکی توسیع پسندی کی مخالفت کینیڈا کی قومی شناخت کا ایک بنیادی حصہ رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کا خوف کینیڈا کے سیاسی وجود کی بنیاد میں شامل ہے۔‘
کینیڈا دراصل شمالی امریکہ میں برطانوی نوآبادیوں کے ایک مجموعے کی صورت میں وجود میں آیا تھا۔ یہ وہ آبادیاں تھیں جنھوں نے موجودہ امریکہ کی نوآبادیوں کے برطانوی تاج کے خلاف بغاوت کرنے کے باوجود برطانوی بادشاہت سے وفاداری برقرار رکھی۔
کینیڈا کے قیام سے پہلے بھی امریکہ نے برطانوی شمالی امریکی نوآبادیوں پر قبضے کی کوششیں کی تھیں۔ سنہ 1775 میں امریکی افواج نے مونٹریال کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور کیوبیک سٹی پر بھی تقریباً قبضہ کر لیا تھا۔
سنہ1812 کی جنگ کے دوران امریکی افواج نے اس وقت اپر کینیڈا، لوئر کینیڈا اور سمندری نوآبادیات کہلانے والے علاقوں پر بارہا حملے کیے، تاہم جنگ کسی فیصلہ کن نتیجے کے بغیر ختم ہوئی۔ اسی جنگ کے دوران برطانوی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشہور طور پر وائٹ ہاؤس کو بھی آگ لگا دی تھی۔
ٹم فوران کے مطابق ’اس دور میں وہ نوآبادیاں جو بعد میں کینیڈا بنیں، اپنے دفاع کے لیے برطانیہ اور اس کی رائل نیوی پر انحصار کرتی تھیں، جبکہ بڑی جنگوں میں مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی جرنیلوں کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے۔‘
پہلی عالمی جنگ کے بعد بھی کینیڈا نے امریکہ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کے تناظر میں اس کے ساتھ ممکنہ جنگ پر غور کیا۔
کینیڈین فوج نے اس حوالے سے ایک منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبے کے لیے کینیڈین فوج کے جرنیلوں نے سرحدی شہروں کے خفیہ دورے کیے۔ وہ سیاحوں کا روپ دھار کر پلوں اور شاہراہوں کی تصاویر لیتے اور ان علاقوں کے بارے میں معلومات جمع کرتے تھے۔
وہ مقامی لوگوں سے بات کر کے اپنے ممکنہ دشمن کے بارے میں بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔
کینیڈین وار میوزیم سے وابستہ اور 20ویں صدی میں کینیڈا کی تاریخ کے ماہر محقق اینڈریو برچ کے مطابق ’اس وقت بھی امریکہ کے ساتھ جنگ کا امکان بہت کم تھا، لیکن کینیڈا پھر بھی ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار رہنا چاہتا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فوجیں یہی کرتی ہیں۔ وہ مختلف طرح کے تمام ممکنہ منظرناموں پر غور کرتی ہیں۔‘
اگر امریکہ کینیڈا پر حملہ کرے تو جنگ کیسی ہو سکتی ہے؟
اگرچہ امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر حملے کا امکان انتہائی کم ہے، تاہم کنیکٹیکٹ کی یونیورسٹی آف نیو ہیون میں قومی سلامتی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میتھیو شمٹ کے مطابق کینیڈا کی جانب سے اس طرح کے ممکنہ حملے کی تیاری اس بات کی علامت ہے کہ عالمی نظام کتنی تیزی سے اور ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کینیڈین قیادت کو یہ مشکل سوال ضرور درپیش ہے کہ وہ امریکی فوج کے ساتھ کس حد تک قریبی تعاون جاری رکھنا چاہتی ہے، کیونکہ یہ شراکت داری امریکہ کو ایسی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے جو کسی بھی صورت میں کینیڈا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو حقیقی نقصان پہنچ رہا ہے اور ایک حد تک جائز خوف بھی موجود ہے۔‘
میتھیو شمٹ کے مطابق ممکن ہے کہ امریکی شہری ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لیتے ہوں، لیکن کینیڈین ان باتوں کو واضح طور پر سنجیدہ سمجھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘
اگر ایسا ہوا تو جنگ کیسی ہوگی؟
اگر کبھی ایسا ہوا تو جنگ کا ابتدائی مرحلہ نسبتاً مختصر ہو سکتا ہے۔
کینیڈین فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک ماڈل کے مطابق، جس کے بارے میں رواں سال کے آغاز میں اخبار گلوب اینڈ میل نے رپورٹ کیا تھا، امریکی حملے کی صورت میں کینیڈا کی اہم دفاعی اور تزویراتی پوزیشنز ایک ہفتے کے اندر زیرِ اثر آ سکتی ہیں۔
اس صورت میں کینیڈین فوج کو بہت جلد تعداد کے اعتبار سے امریکی فوج کے مقابلے میں شدید کمی کا سامنا ہوگا اور اسے اپنے مخالف کو روکنے کے لیے گوریلا طرز کی جنگ کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔
اخبار نے جنوری میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ کینیڈا کے اتحادی ممالک، بالخصوص فرانس اور برطانیہ، سے کینیڈا کے دفاع اور اسے مدد فراہم کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جنگی ماڈل تقریباً ایک صدی میں پہلی مرتبہ ہے جب کینیڈا نے امریکی حملے کے امکان کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس نوعیت کی منصوبہ بندی کی ہے۔
تاہم سابق کینیڈین فوجی افسر کرسٹوفر کوٹس کے مطابق یہ منصوبہ بندی فوجی جنگی تیاریوں کے نسبتاً ابتدائی درجے کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ زمینی حملے کی صورت میں کسی ممکنہ جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار کرنے کے معاملے میں کینیڈا اپنے نیٹو اتحادیوں سے پیچھے ہے اور موجودہ غیر یقینی عالمی سیاسی صورتِ حال میں اب اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق اس کا ایک مظہر حالیہ دنوں میں کینیڈا کے دفاعی سربراہ کی جانب سے فوج کی تعداد میں نمایاں اضافے کی اپیل ہے، جس میں تقریباً تین لاکھ ایسے شہری فوجیوں کو شامل کرنا بھی ممکن ہے جنھیں محدود فوجی تربیت دی جائے گی۔
کینیڈا پر حملہ امریکہ کے لیے بھی اتنا آسان نہیں ہوگا۔
میتھیو شمٹ کے مطابق امریکہ کی فوجی طاقت بہت زیادہ ہونے کے باوجود کینیڈا کے خلاف جنگ کے لیے امریکی فوج اور عوام کی حمایت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اگر کسی امریکی افسر کو کینیڈا پر حملے کا حکم دیا گیا تو بڑی تعداد میں فوجی افسران اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں گے۔‘
ان کے بقول ’وہ اسے غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکم سمجھیں گے۔‘
میتھیو شمٹ نے کہا کہ ’کینیڈین اور امریکی فوجی معمول کے مطابق ایک ساتھ فوجی مشقیں کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے باہمی احترام بھی رکھتے ہیں۔‘
تاہم اگر ایک انتہائی غیر متوقع صورتِ حال میں دونوں ممالک کے تعلقات اس حد تک خراب ہوجائیں کہ جنگ چھڑ جائے تو ان کے مطابق امریکہ ممکنہ طور پر کینیڈا کے اہم قدرتی وسائل، خصوصاً تیل اور معدنیات، پر قبضہ کرنے اور اس کی سیاسی قیادت کو مفلوج کرنے پر توجہ دے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ممکن ہے کہ ایسی کارروائی کا انداز کچھ ایسا ہو جیسا آپ نے وینزویلا میں دیکھا۔‘
وہ رواں سال کے آغاز میں امریکی فوج کی اس کارروائی کا حوالہ دے رہے تھے جس میں وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔
میتھیو شمٹ نے تسلیم کیا کہ ’امریکہ کی فوجی صلاحیت کہیں زیادہ ہے، تاہم ان کے مطابق ’مساوی بنیاد پر‘ دیکھا جائے تو کینیڈین فوجی بھی بھرپور مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔