انڈیا ایشیئن گیمز 2026 میں ٹی 20 کرکٹ کا چیمپیئن: فائنل میں پاکستان کو 19 رنز سے شکست

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

ایشین گیمز 2026 میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے فائنل میں انڈیا نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر سونے کا تمغہ جیت لیا ہے۔

انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رنز کا ہدف دیا تھا۔ جاپان کے شہر نشین میں کھیلے گئے فائنل میں انڈیا کے کپتان شیریاس ائیر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

فائنل سے قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان مصافحے کے وقت انڈیا کے کپتان شیریاس ائیر نے پاکستانی کپتان صاحبزادہ فرحان سے ہاتھ نہیں ملایا۔

212 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم پاکستان کی شروعات اچھی نہ رہیں۔

کپتان صاحبزادہ فرحان 11 گیندوں پر 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ معاذ صداقت نے 23 رنز بنائے۔

اس کے بعد عثمان خان بھی صرف چھ گیندوں پر تین رنز بنا کر شیوم دوبے کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ صائم ایوب نے 22 گیندوں پر 29 رنز بنائے، تاہم وہ بھی شیوم دوبے کی گیند پر واشنگٹن سندر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

صائم ایوب کے آؤٹ ہونے کے بعد واشنگٹن سندر نے عبدالصمد کو بھی پویلین بھیج دیا۔ تلک ورما نے عبدالصمد کا کیچ پکڑا۔ عبدالصمد نے نو گیندوں کا سامنا کیا اور نو رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے حسن نواز نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 96 رنز بنا کر میچ کی آخری گیند پر آؤٹ ہو گئے، انھوں نے اپنی اننگز میں پانچ چوکے اور سات چھکے لگائے۔

پاکستان کے ابتدائی بلے بازوں کی ناکامی کے بعد مڈل آرڈر نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم یہ مزاحمت زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور پاکستان ہدف کے تعاقب میں مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکا۔

انڈیا کی اننگز

انڈیا کی جانب سے سوریا ونشی اور ابھیشیک شرما نے اننگز کا آغاز کیا اور اپنی ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا۔ سوریا ونشی نو گیندوں پر 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ ابھیشیک شرما نے 28 گیندوں پر 61 رنز کی اننگز کھیلی۔

ایشان کشن 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ تلک ورما نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 20 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

انڈیا نے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ابرار احمد اور صائم ایوب نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

انڈیا کے خلاف پاکستان کی بولنگ اور بیٹنگ پر ہونے والی بحث

ایکس صارف داوڑ نے لکھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کے خلاف کھیلتے ہوئے پاکستان ہمیشہ گھبرا جاتا ہے اور پھر ایسے فیصلے کرتا ہے۔ مثلاً سعود سے پاور پلے میں بولنگ کرانا اور صائم سے 19واں اوور کروانا، جبکہ عرفات نے اچھی بولنگ کے باوجود اپنے چار اوورز بھی مکمل نہیں کیے۔‘

عدنان خان نے پاکستان کی بولنگ لائن اپ کے بارے میں لکھا کہ ’سارے سپنرز ٹیم میں بھر کر بھی 211 رنز کھا لیے۔ اس ٹیم کا تو بس اللّٰہ ہی حافظ ہے۔‘

ایکس صارف سلیم خلیق نے لکھا کہ ’پاکستان میچ نہیں جیت سکا، لیکن نوجوان کرکٹرز نے آخر تک بھرپور مقابلہ کیا۔‘

انھوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے گیم پلے پر کہا کہ ’وہ ان نام نہاد سپر سٹارز کی طرح خوفزدہ نظر نہیں آئے۔ خاص طور پر حسن نواز نے بہت اچھی اننگز کھیلی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان نے آخری چار اوورز میں انڈیا کو اتنے زیادہ رنز نہ بنانے دیے ہوتے تو شاید وہ میچ بھی جیت سکتا تھا۔ بہرحال، اب ان کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘

محمد ولید خان نامی ایک ایکس صارف نے حسن نواز کی انگز کی تعریف کی اور لکھا ’حسن نواز آپ نے بہترین بیٹنگ کی لیکن اس پرفارمنس کو جاری رکھنا پڑے گا تو فائدہ ہوگا، ورنہ یہ اننگز ناکام ہوگی۔‘

ولید نے پاکستان کرکٹ ٹیم پر اپنے اس ایکس پیغام میں تنقید بھی کی اور لکھا کہ ’ناکام کپتان، بدترین فیصلے اور عثمان خان جیسوں کی ناقص فیلڈنگ نے پاکستان کو آج گولڈ سے مرحوم کیا۔‘

اعجاز احمد گوندل نے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کو ایشین گیمز کے فائنل میں 19 رنز سے شکست، پاکستان کی نوجوان ٹیم نے کیا زبردست میچ کھیلا ہے فائیٹ کی ہے انڈیا کے خلاف آسانی سے نہیں جیتنے دیا انڈیا کو۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستانیوں کو بہت بہت مبارک ہو پاکستان نے سلور میڈل جیت لیا۔‘

پاکستانی ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کر رہے تھے۔ فائنل کے لیے پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی تھی اور وسیم جونیئر کی جگہ سعد مسعود کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم انڈیا کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

پاکستان کی ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، صائم ایوب، عثمان خان، حسن نواز، عبدالصمد، عرفات منہاس، احمد دانیال، ابرار احمد، سفیان مقیم اور سعد مسعود شامل ہیں۔