انڈیا اور چین کے درمیان اروناچل میں ٹکراؤ کا خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اُردو
    • مقام, دلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی امور اجیت کمار دووال اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں ملکوں کے سرحدی تنازع پر بیجنگ میں مذاکرات کیے ہیں۔

دووال اور وانگ یی سرحدی تنازع پر بات چیت کے لیے اپنے اپنے ملکوں کے خصوصی نمائندے ہیں۔ یہ بات چیت کا 25واں دور تھا۔

بات چیت کے بعد چین کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ چین اور انڈیا اہم ہمسایہ ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے نمائندے ہیں۔

اعلامیے میں درج ہے کہ وانگ یی نے کہا: ’چین۔انڈیا تعلقات میں بہتری اور استحکام دونوں ممالک کے عوام کے بنیادی مفادات میں ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق وانگ یی نے کہا کہ ’چین انڈیا کے ساتھ مل کر دو طرفہ تعلقات کو تزویراتی اور طویل المدتی نقطۂ نظر سے دیکھنے، رابطوں کو مضبوط بنانے، اختلافات کم کرنے، رکاوٹیں دور کرنے اور اچھے ہمسایوں اور دوستانہ شراکت داروں کے طور پر تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بقائے باہمی ممکن ہو سکے۔‘

اعلامیے کے مطابق انڈیا کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دووال نے کہا کہ انڈیا اور چین دونوں قدیم تہذیبیں، بڑی آبادی والے ممالک اور اہم معیشتیں ہیں، ’اور دونوں حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہیں۔‘

چینی وزارت دفاع کی جانب سے جاری اعلامیے میں درج ہے کہ اجیت دووال کہا: ’دونوں ممالک کی قیادت کی رہنمائی میں انڈیا۔چین تعلقات درست سمت پر واپس آ چکے ہیں، سرحدی علاقوں میں مجموعی طور پر امن برقرار ہے اور مختلف شعبوں میں تبادلے اور تعاون میں مسلسل پیش رفت ہوئی ہے۔‘

اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے سرحدی حد بندی سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے، سرحدی انتظام کو مضبوط بنانے، طریقۂ کار کو بہتر بنانے اور سرحد پار تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

اعلامیے میں درج ہے کہ چین اور انڈیا ’اس بات پر متفق ہوئے کہ سرحدی مسئلے کو مکالمے اور مشاورت کے ذریعے مناسب طریقے سے نمٹایا جائے گا اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام مشترکہ طور پر برقرار رکھا جائے گا۔‘

اعلامیے کے مطابق یہ بھی طے پایا کہ چین۔انڈیا سرحدی مسئلے پر خصوصی نمائندوں کا 26واں اجلاس 2027 میں انڈیا میں منعقد کیا جائے گا۔

انڈیا اور چین کے درمیان یہ مذاکرات کیوں اہم ہیں؟

یاد رہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کے حل کے لیے خصوصی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 2003 میں شروع ہوا تھا لیکن اب تک کسی مستقل حل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

یہ مذاکرات اس لحاظ سے اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب آئندہ ماہ دلی میں برکس کے سربراہی اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ کی شرکت کی توقع کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نینیما باسو کہتی ہیں کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے بیجنگ کے اس دورے کا اصل مقصد یہ ہے کہ صدر شی جن پنگ برکس کے سربراہی اجلاس کے لیے دلی آئیں۔ جہاں تک سرحدی تنازعوں پر خصوصی نمائندوں کے درمیان بات چیت کا سوال ہے وہ چلتی رہے گی، وہ بیوروکرٹیک عمل بن چکا ہے۔

دلی میں چینی سفارتخانے کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اجیت دووال نے وانگ یی سے ملاقات سے قبل چین کے نائب صدر ہین زینگ سے بات چیت کی اور ہین زینگ نے دووال کو بتایا کہ گذشتہ دو برس میں صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم مودی نے کازان اور تیانجن میں دوبار ملاقات کی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ان ملاقاتوں میں چین-انڈیا تعلقات کو فروغ دینے، بگڑے ہوئے باہمی تعلقات کو بحال کرنے اور بہتری کی طرف لے جانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے تھے۔

دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کے بعض سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر چینی افواج کی جانب سے سڑک اور بستیاں تعمیر کرنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔

جولائی میں اروناچل کے ایک بالائی علاقے میں چینی اور انڈین افواج ایل اے سی کی انڈین جانب پیٹرولنگ کرتے ہوئے آمنے سامنے آ گئی تھیں۔ 12 اگست کو انڈیا کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ’باہمی تعلقات بہتر کرنے کے لیے سرحدوں پر امن قائم رکھنا لازمی ہے۔‘

چین کی وزارت خارجہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سرحدوں پر امن قائم رکھنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

انڈیا کی تجزیہ کار نروپما سبھرامنین کہتی ہیں کہ ’چین انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں نہ صرف بہت شدت سے سرگرم ہے بلکہ وہ اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے اور وہ اسے ’زنگنان‘ کہتا ہے۔‘

چین نے نقشوں اور سروے میں اروناچل کے پہاڑوں، دریاؤں، شہروں، قصبوں اور کئی مقامات کے انڈین نام بدل کر چینی نام رکھ دیے ہیں۔ انڈیا نے بھی جواب کے طور پر حال میں 27 مقامات کے نام کو سٹینڈرڈائزڈ کیا تھا اور سروے آف انڈیا میں درج کیا تھا۔

چین نے اس پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور اسے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ یہ اس کا خطہ ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اروناچل انڈیا کا اٹوٹ حصہ ہے اور کوئی بھی چیز اس حقیقت کو بدل نہیں سکتی۔

اس مہینے کے شروعات سے اروناچل کے مقامی لوگوں نے سوشل میڈیا پر بہت سے پیغامات پوسٹ کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ چینی فوج اروناچل کے بالائی اور دور دراز کے علاقوں میں انڈین علاقے پر قبضہ کر رہی ہے۔

بعض پوسٹوں میں اپر سوبن سری ضلع کے تکسنگ پہاڑے علاقے میں ایل اے سی کے انڈین جانب چین کے ذریعے سڑک اور گاؤں وغیرہ تعمیر کیے جانے کی گوگل کی تصویریں پوسٹ کی گئی ہیں۔

بعض خبروں میں بتایا گیا ہے کہ چینی افواج نے انڈین افواج کو بعض پیٹرولنگ پوائنٹ تک جانے سے روک دیا ہے۔ انڈین فوج اور حکومت دونوں نے ان واقعات کی تردید کی ہے لیکن بعض رہنماؤں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ریاست میں حال میں چینی افواج کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔

’ٹکراؤ کی روک تھام کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے‘

چین کے سٹریٹیجک امور کے ایک سکالر ہو شی شینگ نے انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’جہاں تک سرحدی تنازع کا سوال ہے، میں بیجنگ کے مذاکرات میں ان کے کسی ڈرامائی حل کی امید نہیں کر رہا ہوں۔ اس بات چیت میں ساری توجہ سرحد پر امن و استحکام کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔ ترجیح لائن آف ایکچول کنٹرول پر کسی طرح کی غلط فہمی اور انھونی کو روکنے، عسکری اور سفارتی رابطوں کو مستحکم کرنے اور جن پوائنٹس پر سرحدی اتفاق ہو سکتا ہے ان کے تعین کے لیے ورکنگ طریقہ کار طے کرنے کو دی جائے گی۔‘

شی شینگ کا کہنا ہے کہ ’دونوں خصوصی نمائندوں کے سامنے جو بڑا چیلنج ہے وہ یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کوئی دیرینہ طریقہ کار وضع کر سکتے ہیں جس سے ٹکراؤ کو روکا جا سکے، جو اختلافات کو کنٹرول میں رکھ سکے اور جو اشتراک اور تعاون کے لیے فضا سازگار کر سکے۔‘

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نینیما باسو کہتی ہیں کہ ’انڈیا اور چین کے درمیان 3800 کلومیٹر لمبی سرحد کا تنازع ہے، چین نے ایل اے سی کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ وہ 1959 کی اپنی کلیم لائن کو اپنی باؤنڈری مانتا ہے۔‘

’انڈیا ایل اے سی کو اپنا بارڈر مانتا ہے لیکن چین اسے نہیں مانتا ہے۔ چین سرحدی علاقوں میں گزشتہ ایک دہائی سے بڑے پیمانے پر سڑکیں، بستیاں اور فوجی بیریکیں وغیرہ تعمیر کرتا جا رہا ہے۔ انڈیا نے اس طرح کی تعمیرات بہت بعد میں شروع کیں۔‘

نروپما سبھرامنین کہتی ہیں کہ ’انڈیا کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ وہ پہلے یہ سمجھ رہا تھا کہ امریکہ کے سائے میں چین سے سرحدی تنازعات اپنے حق میں حل کرا لے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ جو دو برس سے بات چیت ہو رہی ہے وہ اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ دونوں ملکوں نے امریکہ کو بدلتے دیکھا ہے۔ انڈیا اور چین دونوں کو امریکہ سے دھچکا لگنے، اندرونی دباؤ اور دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال نے دونوں کو ایک ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ بات چیت سے فوری طور پر کسی بڑے حل کی امید نہیں کی جا سکتی لیکن انڈیا کے سامنے بہتر آپشن یہی ہے کہ وہ چین سے پر امن تعلقات اور اقتصادی ترقی کے لیے مذاکرات جاری رکھے۔‘

لیکن وہ کہتی ہیں کہ انڈیا نے کتنا علاقائی دعوی کھویا ہے، اس کے بارے میں ایک سوالیہ نشان ہے۔

’مشرقی لداخ میں جن پانچ مقامات پر فوجیں پیچھے ہٹائی گئیں تو کیا وہ پرانی پوزیشن پر آ گئیں یا اس میں پیچھے ہٹنا پڑا ہے، یہ سب بتانا مشکل ہے۔‘

اس دوران خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے خبر دی ہے کہ اس بات کی توقع ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ دلی میں 12 سے 13 ستمبر کو منعقد ہونے والے برکس کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔

خبر رساں ایجنسی نے مختلف ذرائع سے بتایا ہے کہ ’چینی حکام صدر شی اور چینی وفد کے قیام کے لیے ہوٹل اور سیکورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔‘

صدر شی کے ساتھ تقریباً 400 افراد پر مشتمل بھاری وفد کے بھی دلی آنے کی خبر ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے دوران دونوں ملکوں کے حکام ممکنہ طور پر اپنے سرحدی تنازعات اور علاقائی سلامتی کے پہلوؤں پر اپنے دیرینہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر صدر شی برکس کے سربراہی اجلاس کے لیے دلی آتے ہیں تو ساری توجہ برکس اجلاس کے بجائے ان پر مرکوز ہو گی۔

وہ سات برس کے وقفے کے بعد دلی کے دورے پر آ رہے ہوں گے اور ان کے دورے کو دونوں ملکوں کے تلخ تعلقات میں نرمی کے اشارے سے تعبیر کیا جائے گا۔

نیمنیا باسو کہتی ہیں کہ ’ابھی تک سرحدی تنازع کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ انڈین حکومت ہو یا صدر شی کی حکومت، کسی میں بھی اسے مستقل طور پر حل کرنے کا عزم ہے۔ ان حالات میں سرحدی تنازع کو اچھی طرح مینیج کرنا پڑے گا تاکہ گلوان جیسی صورتحال دوبارہ نہ پیدا ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جون 2020 میں گلوان کے ٹکراؤ کے بعد مشرقی لداخ میں جہاں یہ مسئلہ شروع ہوا وہاں پوری سوچ بدل چکی ہے اور وہاں اب ڈی ملٹرائزڈ زون یا بفر زون بنا دیے گئے ہیں جہاں دونوں ملکوں کی فوج اب پیٹرولنگ نہیں کر سکتی۔‘

ان کے مطابق ’گلوان کے ٹکراؤ کے بعد سرحد پر صرف ڈس انگیجمنٹ ہوا ہے، ڈی ایسکیلیشن نہیں ہوا۔ آج بھی دونوں ملکوں کے ہزاروں فوجی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ اب ایک مستقل پوزیشن بن چکی ہے۔ اگرچہ وہاں کی صورتحال کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں بتایا جاتا لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہاں مقامی لوگوں کی چراہ گاہیں چلی گئی ہیں اور ان کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے۔‘

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے حال میں ایک پروگرام میں چین سے تعلقات کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سرحدی علاقوں میں امن اور سکون ہی اچھے تعلقات کی پیشگی ضرورت ہے۔ فطری طور پر سرحد کی صورتحال ہی تعلقات کی نوعیت کا تعین کرے گی۔‘

چین اںڈیا سے بہت زیادہ طاقتور ملک ہے۔ معیشت میں انڈیا کا چین سے کوئی موازنہ نہیں۔ چین کی فوج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے اور بڑے پیمانے پر روبوٹ اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹک ٹینک اور روبوٹک فوجی چینی سرحدوں کی نگہبانی کر رہے ہیں۔

جون 2020 کی گلوان کی لڑائی میں 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی مارے گئے تھے اور اس وقت سے ہی سرحدوں کی صورتحال بدل گئی ہے۔

گذشتہ دو برس سے انڈیا نے چین سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔