پینٹاگون میں ’اختیارات کی جنگ‘: امریکی فوج کے سینیئر کمانڈروں کی برطرفی کی وجہ کیا ہے؟

    • مصنف, بهمن کلباسی
    • عہدہ, بی بی سی
    • مقام, نیویارک
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

امریکی فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرسکول کے استعفے نے ایک بار پھر پینٹاگون میں جاری تبدیلیوں اور اندرونی اختلافات پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کئی سینیئر فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ حکام کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں۔

ناقدین کے مطابق اختلافات اب صرف حکومتی پالیسیوں کی حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ بھی اہم ہو گیا ہے کہ اعلیٰ عہدیدار وزیر دفاع کے انتظامی طرزِ عمل اور فیصلہ سازی کے طریقے سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عہدوں سے ہٹائے جانے والے متعدد افراد امریکی مسلح افواج کی اعلیٰ ترین قیادت کا حصہ تھے۔

ان میں آرمی چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج، یورپ اور افریقہ میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل کرسٹوفر ڈوناہیو، بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن، سدرن کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ایلون ہولسی، فضائیہ کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ ایلون اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر شامل ہیں۔

ڈین ڈرسکول کے استعفے کو خاص اہمیت اس لیے دی جا رہی ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقرر کردہ عہدیدار تھے اور انھیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس ٹرمپ انتظامیہ کے بعض منصوبوں کو آگے بڑھانے میں ان کے کردار کی تعریف بھی کر چکا تھا۔

تاہم ذرائع کے مطابق پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ان کے اختلافات وقت کے ساتھ گہرے ہوتے گئے، اور بالآخر انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

ذاتی اختلاف یا فوج کے مستقبل پر تنازع؟

امریکی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو لگتا تھا کہ فوج کے اعلیٰ افسر جنرل جیمز ڈرسکول ان کی پوری حمایت نہیں کرتے اور ان کے ساتھ وہ احترام نہیں برتتے جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔

دوسری طرف ڈرسکول نے ہیگستھ کے بعض فیصلوں، خاص طور پر کئی سینیئر فوجی کمانڈروں کو عہدوں سے ہٹانے کے معاملے پر، اپنی تشویش براہِ راست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے رکھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس بات پر ہیگستھ ناراض ہو گئے تھے۔

تاہم دونوں کے درمیان اختلاف صرف ذاتی تعلقات کا نہیں تھا بلکہ فوجی پالیسیوں پر بھی اختلاف موجود تھا۔

ڈرسکول فوج میں بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے تھے۔ وہ یوکرین جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر ڈرونز اور بغیر پائلٹ چلنے والے نظاموں کے زیادہ استعمال کے حامی تھے اور فوج کے ڈھانچے میں اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔

بعض رپورٹس کے مطابق ڈرسکول کا خیال تھا کہ ہیگستھ نے ان اصلاحات کو مکمل طور پر نافذ ہونے سے روکا یا ان کی حدود مقرر کر دیں۔

ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی کشیدگی بھی اختلاف کا ایک اہم سبب تھی۔ ڈرسکول اور دوسرے ناقدین کو خدشہ تھا کہ اگر جنگ یا فوجی بحران کے دوران قیادت میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دی جائیں تو فوج کے لیے احکامات کی ترسیل، باہمی رابطے اور کارروائیوں کا انتظام مشکل ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ فوج کے بعض حلقوں میں قیادت کی کمی اور اعلیٰ افسران کے درمیان بے یقینی کا احساس پایا جاتا ہے۔ جن افسروں کو عہدوں سے ہٹایا گیا، ان میں سے بہت سے امریکی فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کا حصہ تھے۔

ہیگستھ کیا چاہتے ہیں؟

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ صرف وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈرسکول کے درمیان ذاتی اختلاف کا نہیں ہے۔

ان کے مطابق ہیگستھ پینٹاگون میں فیصلوں اور پالیسیوں پر اپنا زیادہ کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی سینیئر فوجی افسران اور اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے ہٹایا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ امریکی فوجی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی کا حصہ ہے، جس میں بعض تجربہ کار افسران کی جگہ نئے یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے افراد کو لایا جا رہا ہے۔

کچھ رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی حمایت کافی نہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ کوئی عہدیدار ان پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے ہیگستھ کے طریقۂ کار سے کتنا متفق ہے۔

اسی لیے اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ فوجی افسران حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سینیئر افسر وزیر دفاع کے فیصلوں یا ترجیحات سے اختلاف کرے تو کیا وہ پھر بھی اپنے عہدے پر برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

کیا پینٹاگون آزاد آوازیں کھو رہا ہے؟

ماضی میں امریکہ کی مختلف حکومتوں میں یہ روایت رہی ہے کہ وزارت دفاع کے افسران اور ماہرین اپنی رائے کھل کر دے سکتے تھے، چاہے وہ وزیر دفاع یا صدر کی رائے سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ رائے ایمانداری سے پیش کریں۔

اس کے بعد جب حتمی فیصلہ ہو جاتا تھا تو تمام فوجی اور سرکاری ادارے مل کر اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے تھے، چاہے شروع میں ان کی رائے مختلف رہی ہو۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ برطرفیوں کے بعد یہ ماحول بدل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر افسران کو یہ خوف ہو کہ اختلافی رائے دینے سے ان کی نوکری یا ترقی متاثر ہو سکتی ہے تو وہ اپنی اصل رائے دینے سے گریز کریں گے۔

اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ اعلیٰ امریکی قیادت کو صرف وہی مشورے ملیں جو وہ سننا چاہتی ہے، جبکہ تنقیدی یا متبادل آرا سامنے نہ آئیں۔ ایسے میں بہتر اور متوازن فیصلے کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

اسی لیے بعض مبصرین ایک اہم سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈین ڈرسکول جیسے شخص، جو خود ٹرمپ کے اتحادی سمجھے جاتے تھے، بھی اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ سکے، تو وہ فوجی افسران اور حکام جو وزیر دفاع یا وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں، کیا وہ بغیر کسی خوف کے اپنی پیشہ ورانہ رائے دے سکیں گے؟ یا پھر انھیں بھی اپنے عہدوں کے بارے میں فکر لاحق رہے گی؟