عدالت کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے شواہد بھی مہیا نہیں کئے جاسکے کہ ابو بکر بشیر جمعیہ اسلامیہ نامی تنظیم کے سربراہ یا رہنما ہیں یا انہوں نے حکومت کے خلاف کسی بغاوت کی کوشش کی تھی۔
پینسٹھ سالہ مذہبی رہنما پر الزامات تھے کہ تین برس قبل گرجا گھروں پر ہونے والے بم دھماکوں کے ایک سلسلے کو ان کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی اور انہوں نے صدر میگاوتی سوکارنو پتری جب نائب صدر تھیں تو ان کو قتل کرنے کی ایک واردات کی منصوبہ بندی کی تھی جسے بعد میں ناکام بنا دیا گیا تھا۔
تاہم ابو بکر بشیر نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
جکارتہ کی جس عدالت نے ان کو سزا سنائی ہے اس کے باہر جمع ہوجانے والے ان کے حامیوں نے فیصلہ سن کر امریکہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔